Showing posts with label فخر زمان. Show all posts
Showing posts with label فخر زمان. Show all posts

Monday, 21 February 2022

کچھ بات نہیں جسم اگر میرا جلا ہے

 کچھ بات نہیں جسم اگر میرا جلا ہے

صد شکر کہ اس بزم سے شعلہ تو اٹھا ہے

مانا کہ مِرے لان کی پھر سبز ہوئی گھاس

اس مینہ میں پڑوسی کا مکاں بھی تو گِرا ہے

سردی ہے کہ اس جسم سے پھر بھی نہیں جاتی

سورج ہے کہ مدت سے مِرے سر پر کھڑا ہے

Monday, 10 January 2022

تری گلی سی کسی بھی گلی کی شان نہیں

 تِری گلی سی کسی بھی گلی کی شان نہیں

کہ اس زمین پہ سنتے ہیں آسمان نہیں

مژہ سے بڑھ کے نہیں ہے جو کوئی تیر حسیں

تمہارے ابرو سے دلکش کوئی کمان نہیں

سسک رہے ہیں جو سڑکوں پہ سینکڑوں انساں

تمہارے شہر میں شاید کوئی مکان نہیں

Sunday, 15 August 2021

ہم لوگ تو آکاس کی بیلوں میں گھرے ہیں

 ہم لوگ تو آکاس کی بیلوں میں گھرے ہیں

خوش بخت ہیں جو گلشنِ ہستی میں کھلے ہیں

اس دھوپ کی شدت سے نہیں کوئی مفر اب

دیوار کے سائے میں بڑے لوگ کھڑے ہیں

کس کس کو دکھاتے رہیں جیبوں کے یہ سوراخ

ہر موڑ پر کشکول لیے لوگ کھڑے ہیں

کسی کی یاد ہے اور حسرتوں کا ماتم ہے

 کسی کی یاد ہے اور حسرتوں کا ماتم ہے

بہت دنوں سے لگا تار آنکھ پر نم ہے

ہو زرد زرد نہ کیوں شمع کی ضیا یارو

کہ اس کو اپنے پگھلنے کا جاں گسل غم ہے

غم و الم کا بھی احساس اب نہیں ہوتا

شعور و فکر و نظر کا عجیب عالم ہے

Saturday, 14 August 2021

اے ہمسفرو کیوں نہ نیا شہر بسا لیں

 اے ہم سفرو کیوں نہ نیا شہر بسا لیں

اپنے ہی اصول اپنی ہی اقدار بنا لیں

جن لوگوں نے اب تک مِرے ہونٹوں کو سیا ہے

سوزن سے مِری سوچ کا کانٹا بھی نکالیں

برفوں پہ الاؤ نہیں لگتے ہیں تو یارو

بُجھتی ہوئی قندیل سے قندیل جلا لیں

Friday, 13 August 2021

پت جھڑ آیا پت جھڑ آیا

 پت جھڑ آیا پت جھڑ آیا

پیڑوں سے پتے ٹوٹیں گے

اور بکھریں گے اک اک کر کے

شاہراہوں پر پگڈنڈیوں پر

ظالم راہی بے حس راہی

پتوں کو پاؤں کے نیچے

Thursday, 12 August 2021

آئینہ جھوٹ بولتا ہے

 آئینہ


میں اپنی صورت کو آئینے میں

ہوں دیکھ کر آج سخت حیراں

وہ خوبصورت ہرن سی آنکھیں

کہاں گئیں؟ کیا ہوا ہے ان کو؟

وہاں تو اب دو گڑھے ہیں باقی

مہیب سنسان، اور ویراں