کچھ بات نہیں جسم اگر میرا جلا ہے
صد شکر کہ اس بزم سے شعلہ تو اٹھا ہے
مانا کہ مِرے لان کی پھر سبز ہوئی گھاس
اس مینہ میں پڑوسی کا مکاں بھی تو گِرا ہے
سردی ہے کہ اس جسم سے پھر بھی نہیں جاتی
سورج ہے کہ مدت سے مِرے سر پر کھڑا ہے
کچھ بات نہیں جسم اگر میرا جلا ہے
صد شکر کہ اس بزم سے شعلہ تو اٹھا ہے
مانا کہ مِرے لان کی پھر سبز ہوئی گھاس
اس مینہ میں پڑوسی کا مکاں بھی تو گِرا ہے
سردی ہے کہ اس جسم سے پھر بھی نہیں جاتی
سورج ہے کہ مدت سے مِرے سر پر کھڑا ہے
تِری گلی سی کسی بھی گلی کی شان نہیں
کہ اس زمین پہ سنتے ہیں آسمان نہیں
مژہ سے بڑھ کے نہیں ہے جو کوئی تیر حسیں
تمہارے ابرو سے دلکش کوئی کمان نہیں
سسک رہے ہیں جو سڑکوں پہ سینکڑوں انساں
تمہارے شہر میں شاید کوئی مکان نہیں
ہم لوگ تو آکاس کی بیلوں میں گھرے ہیں
خوش بخت ہیں جو گلشنِ ہستی میں کھلے ہیں
اس دھوپ کی شدت سے نہیں کوئی مفر اب
دیوار کے سائے میں بڑے لوگ کھڑے ہیں
کس کس کو دکھاتے رہیں جیبوں کے یہ سوراخ
ہر موڑ پر کشکول لیے لوگ کھڑے ہیں
کسی کی یاد ہے اور حسرتوں کا ماتم ہے
بہت دنوں سے لگا تار آنکھ پر نم ہے
ہو زرد زرد نہ کیوں شمع کی ضیا یارو
کہ اس کو اپنے پگھلنے کا جاں گسل غم ہے
غم و الم کا بھی احساس اب نہیں ہوتا
شعور و فکر و نظر کا عجیب عالم ہے
اے ہم سفرو کیوں نہ نیا شہر بسا لیں
اپنے ہی اصول اپنی ہی اقدار بنا لیں
جن لوگوں نے اب تک مِرے ہونٹوں کو سیا ہے
سوزن سے مِری سوچ کا کانٹا بھی نکالیں
برفوں پہ الاؤ نہیں لگتے ہیں تو یارو
بُجھتی ہوئی قندیل سے قندیل جلا لیں
پت جھڑ آیا پت جھڑ آیا
پیڑوں سے پتے ٹوٹیں گے
اور بکھریں گے اک اک کر کے
شاہراہوں پر پگڈنڈیوں پر
ظالم راہی بے حس راہی
پتوں کو پاؤں کے نیچے
آئینہ
میں اپنی صورت کو آئینے میں
ہوں دیکھ کر آج سخت حیراں
وہ خوبصورت ہرن سی آنکھیں
کہاں گئیں؟ کیا ہوا ہے ان کو؟
وہاں تو اب دو گڑھے ہیں باقی
مہیب سنسان، اور ویراں