فریب
چھین کر مجھ سے مِری جان مِرے دل کا قرار
تُو نے گُل کر ہی دئیے میری امیدوں کے چراغ
تُو نے کیوں گھول دیا زہر مِری رگ رگ میں
تُو نے کیوں توڑ دئیے میری محبت کے ایاغ
مجھ کو معلوم تھا قاتل ہے تُو ارمانوں کی
دل مجروح کے ارمانوں سے تُو کھیلے گی
فریب
چھین کر مجھ سے مِری جان مِرے دل کا قرار
تُو نے گُل کر ہی دئیے میری امیدوں کے چراغ
تُو نے کیوں گھول دیا زہر مِری رگ رگ میں
تُو نے کیوں توڑ دئیے میری محبت کے ایاغ
مجھ کو معلوم تھا قاتل ہے تُو ارمانوں کی
دل مجروح کے ارمانوں سے تُو کھیلے گی
الجھا ہوں یاد عہد گزشتہ کے جال میں
ڈوبا ہوا ہوں آپ ہی اپنے خیال میں
جو حق تھا دوستی کا ادا میں نے کر دیا
گو اپنی عمر کٹ گئی رنج و ملال میں
اک بت کو میں نے بت سے بنایا خدائے پاک
شامل تھا یہ کرشمہ بھی میرے کمال میں
زاہد تری بہشت کو ٹھکرا گیا ہوں میں
دیر و حرم سے میکدے تک آ گیا ہوں میں
جھانکا جو اپنے آئینۂ روح میں کبھی
اپنا ہی عکس دیکھ کے شرما گیا ہوں میں
جب بھی پڑا ہے معرکہ لے کے خدا کا نام
طوفانِ حادثات سے ٹکرا گیا ہوں میں
ہم سخن ہم زباں ملے نہ ملے
آپ سا مہرباں ملے نہ ملے
راز دل کا تو کُھل ہی جائے گا
اشکِ غم کو زباں ملے نہ ملے
ایک لمحہ بہت ہے قُربت کا
مجھ کو عمرِ رواں ملے نہ ملے