مجھ سے ملنے کے لیے آنا کہاں آسان ہے
اک سڑک پر رش بہت ہے اک سڑک سنسان ہے
کیوں کنارہ کش ہوں تیرے چہرہ و آواز سے
آنکھ آخر آنکھ ٹھہری کان بھی پھر، کان ہے
کچھ بتاؤ تو دسمبر میں ہے کیسا رنگ و روپ
وہ عدم آباد جنت کیسی عالی شان ہے
تھک گیا وہ، مان لی ہار، آ گیا صبر و قرار
لیکن آخر میرا خود سے بھی تو کچھ پیمان ہے
یہ گناہوں کی جہنم آشنا لمبی سڑک
ہر پڑاؤ چھوٹی سی اک جنتِ انسان ہے
جبکہ ہر اک شے مقدر ساتھ لاتی ہے یہاں
ان لکیروں کے بھی ہاتھوں میں کوئی امکان ہے
یاسر فاروق
No comments:
Post a Comment