Friday, 24 July 2026

مجھ سے ملنے کے لئے آنا کہاں آسان ہے

 مجھ سے ملنے کے لیے آنا کہاں آسان ہے

اک سڑک پر رش بہت ہے اک سڑک سنسان ہے

کیوں کنارہ کش ہوں تیرے چہرہ و آواز سے 

آنکھ آخر آنکھ ٹھہری کان بھی پھر، کان ہے 

کچھ بتاؤ تو دسمبر میں ہے کیسا رنگ و روپ 

وہ عدم آباد جنت کیسی عالی شان ہے 

تھک گیا وہ، مان لی ہار، آ گیا صبر و قرار 

لیکن آخر میرا خود سے بھی تو کچھ پیمان ہے

یہ گناہوں کی جہنم آشنا لمبی سڑک 

ہر پڑاؤ چھوٹی سی اک جنتِ انسان ہے 

جبکہ ہر اک  شے مقدر ساتھ لاتی ہے یہاں 

ان لکیروں کے بھی ہاتھوں میں کوئی امکان ہے


یاسر فاروق

No comments:

Post a Comment