جس طرح ملتا تھا ہم سے اس طرح ملتا نہیں
وہ جو گزرا ہے اِدھر سے اس طرف دیکھا نہیں
جس کی خاطر ہم نے چھوڑا تھا لڑکپن کا سفر
مڑ کے دیکھا غور سے جب وہ بھی اپنا تھا نہیں
سازِ ہستی کی صدا ہے غور سے سن لیں میاں
ہوش والوں کی نظر میں یہ کہیں ملتا نہیں
جس طرح ملتا تھا ہم سے اس طرح ملتا نہیں
وہ جو گزرا ہے اِدھر سے اس طرف دیکھا نہیں
جس کی خاطر ہم نے چھوڑا تھا لڑکپن کا سفر
مڑ کے دیکھا غور سے جب وہ بھی اپنا تھا نہیں
سازِ ہستی کی صدا ہے غور سے سن لیں میاں
ہوش والوں کی نظر میں یہ کہیں ملتا نہیں
لہجے کی تیری تلخی دل میں اُتر گئی ہے
تیری یہ کج ادائی نقصان کر گئی ہے
تیری گلی میں اب کے ہنگامہ یہ ہوا ہے
لیلیٰ لبادہ اپنا آ کے تو دھر گئی ہے
وہ آ گئی ہے لیکن مجھ کو خبر نہیں ہے
میرے بغیر سب تک یارو خبر گئی ہے
کس نے مجھے رُلایا شب دیر تک اے جاناں
دل کا لہو جلایا شب دیر تک اے جاناں
حسرت سے مجھ کو آخر تکتا ہے بام پر سے
اک چاند تھا کہ آیا شب دیر تک اے جاناں
وعدے تمہارے مجھ کو جب جب بھی یاد آئیں
خود کو ہی خود ستایا شب دیر تک اے جاناں
ہر طرح کی شادمانی دے اُسے
ہر خوشی اب آسمانی دے اسے
وہ نہیں سنتا کسی کی بات، تو
گوش میرے یار جانی دے اسے
سوچتا ہوں ہجر میں اب دیر تک
جو لکھی ہے وہ کہانی دے اسے
صورت پہ تیری جاناں اب ہو رہی غزل ہے
پردہ کلی بھی کر دے وہ سادگی غزل ہے
شامِ سکوت سر پر، دل میں اُداسیاں ہیں
جو دل کو ہے لُبھائے وہ خامشی غزل ہے
ہم نے کسی کے لب سے اپنی غزل سنی ہے
حیرت سے کہہ رہا تھا یہ آپ کی غزل ہے