ہر طرح کی شادمانی دے اُسے
ہر خوشی اب آسمانی دے اسے
وہ نہیں سنتا کسی کی بات، تو
گوش میرے یار جانی دے اسے
سوچتا ہوں ہجر میں اب دیر تک
جو لکھی ہے وہ کہانی دے اسے
چلتے چلتے کھو گیا ہوں میں کہیں
یہ پتہ میرا زبانی دے اسے
ہو چکا ہوں میں تو یارا لاعلاج
تُو بھی غم اب جاودانی دے اسے
دل گلی میں چاند کو تکتے رہے
یہ خبر بعدِ زمانی دے اسے
جو رہے گا اب صبا کے ساتھ ساتھ
میرے مالک شادمانی دے اسے
اب تو ساگر ہو چکا ہے خستہ دل
ابرِ باراں کی روانی دے اسے
ساگر سلام
No comments:
Post a Comment