Showing posts with label دپتی مشرا. Show all posts
Showing posts with label دپتی مشرا. Show all posts

Friday, 12 November 2021

تمہیں کس نے کہا تھا تم مجھے چاہو بتاؤ تو

 تمہیں کس نے کہا تھا تم مجھے چاہو، بتاؤ تو؟

جو دم بھرتے ہو چاہت کا تو پھر اس کو نبھاؤ تو

دئیے جاتے ہو یہ دھمکی؛ گیا تو پھر نہ آؤں گا

کہاں سے آؤ گے، پہلے مِری دنیا سے جاؤ تو

مِری چاہت بھی ہے تم کو اور اپنا گھر بھی پیارا ہے

نپٹ لوں گی میں ہر غم سے، تم اپنا گھر بچاؤ تو

Thursday, 11 November 2021

دل سے اپنایا نہ اس نے غیر بھی سمجھا نہیں

 دل سے اپنایا نہ اس نے غیر بھی سمجھا نہیں

یہ بھی اک رشتہ ہے جس میں کوئی بھی رشتہ نہیں

یہ بلا کے پینترے، یہ سازشیں میرے خلاف

رائیگاں ہیں، میں تمہارے کھیل کا حصہ نہیں

اے مِری خانہ بدوشی!، یہ کہاں لے آئی تُو

گھر میں ہوں میں اور میرا گھر مجھے ملتا نہیں

Wednesday, 13 October 2021

بے حد بے چینی ہے لیکن مقصد ظاہر کچھ بھی نہیں

 بے حد بے چینی ہے لیکن مقصد ظاہر کچھ بھی نہیں

پانا، کھونا، ہنسنا، رونا، کیا ہے آخر، کچھ بھی نہیں

اپنی اپنی قسمت سب کی،۔ اپنا اپنا حصہ ہے

جسم کی خاطر لاکھوں ساماں روح کی خاطر کچھ بھی نہیں

اس کی بازی اس کے مہرے اس کی چالیں اس کی جیت

اس کے آگے سارے قادر ماہر شاطر کچھ بھی نہیں

Saturday, 15 May 2021

دونوں میں کتنا فرق مگر دونوں کا حاصل تنہائی

 دونوں میں کتنا فرق مگر دونوں کا حاصل تنہائی

اپنوں میں دوری لاتی ہے وہ شہرت ہو یا رسوائی

جیون کے کورے کاغذ پر جینا ہوگا تحریروں میں

اجلے پنوں پر سیاہی سے کرنی ہوگی حرف آرائی

ہم ہیں اس کا ہی عکس مگر ہے بیچ میں جیون کا درپن

جب ٹوٹے گا جیون درپن تب ظاہر ہوگی سچائی

Friday, 14 May 2021

میں نے اپنا حق مانگا تھا وہ ناحق ہی روٹھ گیا

 میں نے اپنا حق مانگا تھا وہ ناحق ہی رُوٹھ گیا

بس اتنی سی بات ہوئی تھی ساتھ ہمارا چھُوٹ گیا

وہ میرا ہے آخر اک دن مجھ کو مل ہی جائے گا

میرے من کا ایک بھرم تھا کب تک رہتا ٹوٹ گیا

دنیا بھر کی شان و شوکت جیوں کی تیوں ہی دھری رہی

میرے بیراگی من میں جب سچ آیا تو جھوٹ گیا

Thursday, 13 May 2021

اکثر دکھائی دے جاتے ہیں کہیں نہ کہیں خوشی کے آنسو

 اکثر دکھائی دے جاتے ہیں

کہیں نہ کہیں

خوشی کے آنسو

لیکن

کیا کبھی کسی نے

غم کی ہنسی بھی سنی ہے

Wednesday, 12 May 2021

سچ ہے پیاسی ہوں میں

 سچ ہے پیاسی ہوں میں

بے حد پیاسی

لیکن تم سے کس نے کہا

کہ تم میری پیاس بجھاؤ

کہیں زیادہ خالی ہو تم

مجھ سے کہیں زیادہ ریتے

Tuesday, 13 April 2021

وہ نہیں میرا مگر اس سے محبت ہے تو ہے

 وہ نہیں میرا مگر اس سے محبت ہے، تو ہے

یہ اگر رسم و رواجوں سے بغاوت ہے، تو ہے

سچ کو میں نے سچ کہا، جب کہہ دیا تو کہہ دیا

اب زمانے کی نظر میں یہ حماقت ہے، تو ہے

جل گیا پروانہ تو شمع کی اس میں کیا خطا؟

رات بھر جلنا جلانا اس کی قسمت ہے، تو ہے