Thursday, 11 November 2021

دل سے اپنایا نہ اس نے غیر بھی سمجھا نہیں

 دل سے اپنایا نہ اس نے غیر بھی سمجھا نہیں

یہ بھی اک رشتہ ہے جس میں کوئی بھی رشتہ نہیں

یہ بلا کے پینترے، یہ سازشیں میرے خلاف

رائیگاں ہیں، میں تمہارے کھیل کا حصہ نہیں

اے مِری خانہ بدوشی!، یہ کہاں لے آئی تُو

گھر میں ہوں میں اور میرا گھر مجھے ملتا نہیں

سب یہی سمجھے ندی ساگر سے مل کر تھم گئی

پر ندی بہتی ہے جو اس کا سفر تھمتا نہیں

وقت بدلا، لوگ بدلے، میں بھی بدلی ہوں مگر

ایک موسم مجھ میں ہے جو آج تک بدلا نہیں


دپتی مشرا

No comments:

Post a Comment