Showing posts with label صغیر انور. Show all posts
Showing posts with label صغیر انور. Show all posts

Tuesday, 29 September 2020

کاہے افسوس کروں جی کے چلے جانے کا

 کاہے افسوس کروں، جی کے چلے جانے کا

یہ تو ویسے بھی پجاری تھا صنم خانے کا

عشق والوں کو کبھی مات نہیں ہو سکتی

حسن فانی ہے، کسی کام نہیں آنے کا

لوگ کیا دشت میں آتے ہیں اجازت لے کر

کیا کوئی تخت نشیں ہوتا ہے ویرانے کا؟

Tuesday, 3 January 2017

دینے لگا ہے خواب میں مجھ کو دکھائی کیا

دینے لگا ہے خواب میں مجھ کو دکھائی کیا
ہونے لگی ہے خود سے مِری آشنائی کیا
دنیا! تِرے فریب میں آؤں بھی کس طرح 
مجھ پر کھلی نہیں ہے تِری بے وفائی کیا
دشمن کو میں نے بڑھ کے گلے سے لگا لیا
کل شب یہ ایک دم سے مِرے جی میں آئی کیا

یعنی یہ تیرا ہجر بھی اتنا کما لیا گیا

یعنی یہ تیرا ہجر بھی، اتنا کما لیا گیا
سینے میں بھر لیا گیا، سر پہ اٹھا لیا گیا
دشت ہی دشت تھا وہاں دیوار و در تو تھے نہیں
جس کو جہاں جگہ ملی، مسکن بنا لیا گیا
اپنا تو سب حسابِ جاں، دل پہ رقم ہے آج تک
جو بھی کہا سنا گیا، جو بھی دیا، لیا، گیا

Saturday, 31 December 2016

آنکھوں سے کام ہم نے بہت ہی جدا لیا

آنکھوں سے کام ہم نے بہت ہی جدا لیا
پَل بھر میں ان کو دشت سے دریا بنا لیا
ہوش و خرد کی چلتی کہاں ان کے سامنے 
دل نے کہا تو پیار کا بیڑا اٹھا لیا
اب اور مجھ فقیر کو بھاشن نہ دیجیۓ 
سن سن کے کان پک گئے خطباتِ عالیہ

عجب اک خواب دیکھے جا رہے ہیں

عجب اک خواب دیکھے جا رہے ہیں 
جنوں میں رقص کرتے جا رہے ہیں
ہمیں ناخن کی حاجت ہو رہی ہے 
ہمارے زخم بھرتے جا رہے ہیں
وہ جس جانب ہمارا کچھ نہیں ہے 
اسی جانب یہ رستے جا رہے ہیں

Saturday, 24 December 2016

کچھ نہیں ہے یار جانی خاک ہے

کچھ نہیں ہے یار جانی خاک ہے
یہ سراپا، یہ جوانی، خاک ہے
آج بھی جھڑتی ہے اپنے جسم سے 
یہ کوئی صدیوں پرانی خاک ہے
کیا کوئی پہچان پائے گا ہمیں 
ہم فقیروں کی نشانی خاک ہے

الٹ قسمت کا دھارا چل رہا ہے

الٹ قسمت کا دھارا چل رہا ہے
مگر پھر بھی گزارا چل رہا ہے
محبت بوجھ بنتی جا رہی ہے
خسارے پر خسارا چل رہا ہے
تعجب ہے، تمہارے فیصلوں پر
ابھی تک استخارہ چل رہا ہے 

دلا تو سوچ کوئی کام وام کرنے کا

دِلا تو سوچ، کوئی کام وام کرنے کا
یہ بارِ عشق تو سر سے نہیں اترنے کا
جنابِ ہجر! اگر آپ کی اجازت ہو 
کچھ اہتمام کروں آپ کے ٹھہرنے کا
ملال یہ ہے کہ ہم نے عبث گزار دیا 
ہمارے پاس جو لمحہ تھا کر گزرنے کا

Saturday, 17 December 2016

یہ مانتا ہوں کہ مطلق میں پارسا نہیں ہوں

یہ مانتا ہوں کہ مطلق میں پارسا نہیں ہوں 
مگر جو سوچ رہے ہو وہ، باخدا نہیں ہوں
کبھی کبھی تو میں خود سے مکر ہی جاتا ہوں 
کہ آپ پوچھنے والے سے کہہ دیا، نہیں ہوں
اسے کہو کہ غمِ ہجر سے نکالے مجھے 
اسے کہو کہ میں ویسا ہرا بھرا نہیں ہوں

نصیبا جگمگانے کو نبی کا نام کافی ہے

ہدیۂ نعت بحضور سرورِ کائناتﷺ 

نصیبا جگمگانے کو نبیﷺ کا نام کافی ہے 
مِرے اس آشیانے کو نبیﷺ کا نام کافی ہے
کوئی اس نام سے افضل وظیفہ ہو نہیں سکتا 
ہمیں پڑھنے پڑھانے کو نبیﷺ کا نام کافی ہے
بتایا تھا بہت پہلے مجھے اک پیرِ کامل نے 
خدا کا قرب پانے کو نبیﷺ کا نام کافی ہے

سر کے رکھنے کو ترا نقش کف پا مانگیں

ہدیۂ نعت بحضور سرورِ کائناتﷺ  

سر کے رکھنے کو تِرا نقشِ کفِ پا مانگیں
اپنی اوقات نہیں ہے کہ کچھ ایسا مانگیں
بھیک ملتی ہے سوالی کا بھرم رہتا ہے
آؤ سرکارﷺ سے حسنین کا صدقہ مانگیں
عین ممکن ہے کہ جذبوں کو زباں مل جائے
ان کے دربار سے مِدحت کا قرینہ مانگیں

Saturday, 1 August 2015

رکھا ہے پاؤں یار نے دل کے مکان میں

رکھا ہے پاؤں یار نے دل کے مکان میں
لو آج میری جان بھی آئی ہے جان میں
اک دن ترا یہ ہجر مکمل کروں گا میں
یہ عمر پڑ رہی ہے یونہی درمیان میں
لیجے حضور ختم ہوئی داستانِ عشق
میں آخری چراغ تھا اس خاندان میں

حیات کیسے کٹے گی ہنسی خوشی باقی

حیات کیسے کٹے گی ہنسی خوشی باقی
نہ دوستی ہے سلامت، نہ دشمنی باقی
پتہ چلا کہ کسی اور کے وجود سے تھی
بجھا چراغ، مگر روشنی رہی باقی
تمام شہر تو مسمار ہو چکا کب کا
مگر فقیر کی اب بھی ہے جھونپڑی باقی

میں نے یہ کب کہا تھا کہ سارا ادھیڑ دے

میں نے یہ کب کہا تھا کہ سارا ادھیڑ دے
جتنی بُنت خراب ہے، اتنا ادھیڑ دے
ان کا نصیب بس وہی صحرا کی خاک ہے
جن کو فراقِ یار کا لمحہ ادھیڑ دے
ممکن ہے اب کی بار میں آدھا دکھائی دوں
ممکن ہے تیرا ہجر یہ چہرہ ادھیڑ دے

روٹھتے ہی منا لیا خود کو

روٹھتے ہی منا لیا خود کو
کتنا خود سر بنا لیا خود کو
غم مسلسل خراج مانگتا تھا
اس کا ایندھن بنا لیا خود کو
ہائے دنیا! تِرے تعاقب میں
زندگی نےتھکا لیا خود کو