Showing posts with label اکرام الحق. Show all posts
Showing posts with label اکرام الحق. Show all posts

Saturday, 20 January 2024

حاصل ہو آپ کی جو رضا خیرالوریٰ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت خیرالوریٰﷺ 


حاصل ہو آپؐ کی جو رضا خیرالوریٰﷺ

شفقت ہو آپ کی جو عطا خیرالوریٰﷺ

رحمت ہی برسے دل پہ سدا خیرالوریٰﷺ

مقبول میری کر لیں دُعا خیرالوریٰﷺ


محبوب دل کو آپﷺ کی رحمت سدا رہے

ایسے ہی میرے دل میں الفت سدا رہے

Saturday, 31 December 2022

دل میں کینہ کہاں سے لاتے ہیں

 دل میں کینہ کہاں سے لاتے ہیں

خار راہوں میں جو بچھاتے ہیں

سب کو ایسے ہی جو ستاتے ہیں

بد قماشی نہ چھوڑ پاتے ہیں

ایسے جھگڑوں کو جو بڑھاتے ہیں

اپنی فطرت سے مات کھاتے ہیں

Monday, 14 November 2022

بات اب تک ختم نہیں سمجھے

 بات اب تک ختم نہیں سمجھے

چوٹ کھا کر بھی ہم نہیں سمجھے

کچھ بھی کہنا فضول لگتا ہے

میری چاہت صنم نہیں سمجھے

بات ساری ہی ان سنی کر دی

کچھ تو ہو گا جو تم نہیں سمجھے

Friday, 22 April 2022

عشق سرکار جہاں ہوتا ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


عشق سرکارﷺ جہاں ہوتا ہے 

نعت خواں پیر و جواں ہوتا ہے

پھر نگاہیں نہیں اٹھتیں میری

جب مدینے کا سماں ہوتا ہے

آقاﷺ کے در پہ سکوں ہے ایسا

عشق سرکارﷺ رواں ہوتا ہے

Saturday, 16 April 2022

آس کا پنچھی پر پھیلائے

 آس کا پنچھی پر پھیلائے

بہتا دریا شور مچا ئے

تِری چاہ کے اس جنگل میں

یاد کی ناگن ڈستی جائے

جیون کی اس راہ پہ اکثر

بڑھ جاتے ہیں اپنے سائے

Friday, 25 March 2022

چھلکا ہے نہ چھلکے گا یہ پیمانہ ہمارا

 چھلکا ہے نہ چھلکے گا یہ پیمانہ ہمارا

آباد رہے گا یونہی مے خانہ ہمارا

کس ناز سے کہتے ہیں یہ محفل میں سبھی سے

جائے تو کہاں جائے گا دیوانہ ہمارا

کس کس سے چھپاؤ گے بتاؤ تو بھلا یہ

مستی میں ہواؤں کے ہے افسانہ ہمارا

Wednesday, 23 March 2022

پرکھوں کی یاد آتی ہے دالان دیکھ کر

 پرکھوں کی یاد آتی ہے دالان دیکھ کر

دل بجھ گیا ہے اب اسے ویران دیکھ کر

پردہ منافقت کا ہر اک سُو بچھا دیا

دل رو پڑا ہے شہر کا رجحان دیکھ کر

اس دورِ مُفلسی نے عجب حال کر دیا

قیمت سبھی بتاتے ہیں میلان دیکھ کر

Tuesday, 22 March 2022

آنکھوں میں جاگتی ہے جو تحریر خواب کی

 آنکھوں میں جاگتی ہے جو تحریر خواب کی

رہنے دو میرے پاس یہ جاگیر خواب کی

آتی ہے اس گلی سے مہکتی ہوئی صبا

بڑھنے لگی ہے اور بھی توقیر خواب کی

خود آپ اپنی جو کریں ہم جستجو تمام

مل جائے گی وہ ذات میں تنویر خواب کی

Thursday, 17 February 2022

تصور میں روضہ نبی کا بسا کے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


تصور میں روضہ نبیؐ کا بسا کے

ہوا بوجھ ہلکا غمِ دل سنا کے

محبت کا ان سے، یہی ہے تقاضا

درودوں کے تحفے رکھیں ہم سجا کے

معطر، معطر ، منور وہ گلیاں

نظر جگمگا دیں مدینہ دکھا کے

Sunday, 23 January 2022

دشوار زندگی کو بنائے گی ایک دن

 دُشوار زندگی کو بنائے گی ایک دن

سوچا نہ تھا کہ ایسے ستائے گی ایک دن

باتیں وہ اپنے دل کی سنائے گی ایک دن

واپس مجھے ضرور بلائے گی ایک دن

مانا کہ پاس آ کے ہیں بیٹھے خفا خفا

صحبت یہ اپنے رنگ دکھائے گی ایک دن

Wednesday, 2 June 2021

بسائے دل میں اسے حرف مدعا کی طرح

 بسائے دل میں اسے حرفِ مدعا کی طرح

کتاب دل میں رکھا خواب نارسا کی طرح

غرورِ حسن عجب ہے کہ اپنی ہستی میں

بنا ہوا ہے سر انجمن خدا کی طرح

ہر ایک سمت طلسمی سوال رکھے تھے

یہ شہر، شہر بنا، شہر نینوا کی طرح

Tuesday, 1 June 2021

پرکھوں کی یاد آتی ہے دالان دیکھ کر

 پُرکھوں کی یاد آتی ہے دالان دیکھ کر

دل بُجھ گیا ہے اب اسے ویران دیکھ کر

پردہ منافقت کا ہر اک سُو بچھا دیا

دل رو پڑا ہے شہر کا رجحان دیکھ کر

اس دورِ مُفلسی نے عجب حال کر دیا

قیمت سبھی بتاتے ہیں میلان دیکھ کر

دنیا میں مانتے ہیں کدورت ہے بڑھ گئی

 دنیا میں مانتے ہیں کدورت ہے بڑھ گئی

سبقت کی ہر کسی میں، حسرت ہے بڑھ گئی

نفرت کے بیج بونے کی بدعت ہے بڑھ گئی

اپنوں کے درمیاں بھی عداوت ہے بڑھ گئی

ایسا ہے دور آیا کہ شہرت کی ہے طلب

کچھ صبر تو رہا نہیں عجلت ہے بڑھ گئی

Saturday, 29 May 2021

ہر اک سو اب اجالا ہو گیا ہے

 ہر اک سو اب اجالا ہو گیا ہے

نبیﷺ کا بول بالا ہو گیا ہے

سجا کر ان کے سیرت کے نگینے

جو ادنیٰ تھا وہ اعلیٰ ہو گیا ہے

مِرے شہرِ نبی کی شان دیکھو

جہاں بھر سے نرالا ہو گیا ہے

Friday, 28 May 2021

لمحۂ کن میرے گمان میں ہے

 لمحۂ کن میرے گمان میں ہے

نقش ابھرا ہوا چٹان میں ہے

کھول کر بادباں سر ساحل

ناخدا بھی تو امتحان میں ہے

کہہ رہی ہے ہوا کی سرگوشی

وہ شکاری ابھی مچان میں ہے

Tuesday, 8 December 2020

حسرت سے اپنے دل کو جلایا نہ کیجیے

 حسرت سے اپنے دل کو جلایا نہ کیجیے

آنسو💧 فضول اپنے بہایا نہ کیجیے

ظالم کا یوں بھی ساتھ نبھایا نہ کیجیے

مظلوم کا مذاق اڑایا نہ کیجیے

مظلوم کی ندا سے تو ہلتا ہے عرش بھی

مظلوم کی ندا کو دبایا نہ کیجیے