عارفانہ کلام حمد نعت منقبت خیرالوریٰﷺ
حاصل ہو آپؐ کی جو رضا خیرالوریٰﷺ
شفقت ہو آپ کی جو عطا خیرالوریٰﷺ
رحمت ہی برسے دل پہ سدا خیرالوریٰﷺ
مقبول میری کر لیں دُعا خیرالوریٰﷺ
محبوب دل کو آپﷺ کی رحمت سدا رہے
ایسے ہی میرے دل میں الفت سدا رہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت خیرالوریٰﷺ
حاصل ہو آپؐ کی جو رضا خیرالوریٰﷺ
شفقت ہو آپ کی جو عطا خیرالوریٰﷺ
رحمت ہی برسے دل پہ سدا خیرالوریٰﷺ
مقبول میری کر لیں دُعا خیرالوریٰﷺ
محبوب دل کو آپﷺ کی رحمت سدا رہے
ایسے ہی میرے دل میں الفت سدا رہے
دل میں کینہ کہاں سے لاتے ہیں
خار راہوں میں جو بچھاتے ہیں
سب کو ایسے ہی جو ستاتے ہیں
بد قماشی نہ چھوڑ پاتے ہیں
ایسے جھگڑوں کو جو بڑھاتے ہیں
اپنی فطرت سے مات کھاتے ہیں
بات اب تک ختم نہیں سمجھے
چوٹ کھا کر بھی ہم نہیں سمجھے
کچھ بھی کہنا فضول لگتا ہے
میری چاہت صنم نہیں سمجھے
بات ساری ہی ان سنی کر دی
کچھ تو ہو گا جو تم نہیں سمجھے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
عشق سرکارﷺ جہاں ہوتا ہے
نعت خواں پیر و جواں ہوتا ہے
پھر نگاہیں نہیں اٹھتیں میری
جب مدینے کا سماں ہوتا ہے
آقاﷺ کے در پہ سکوں ہے ایسا
عشق سرکارﷺ رواں ہوتا ہے
آس کا پنچھی پر پھیلائے
بہتا دریا شور مچا ئے
تِری چاہ کے اس جنگل میں
یاد کی ناگن ڈستی جائے
جیون کی اس راہ پہ اکثر
بڑھ جاتے ہیں اپنے سائے
چھلکا ہے نہ چھلکے گا یہ پیمانہ ہمارا
آباد رہے گا یونہی مے خانہ ہمارا
کس ناز سے کہتے ہیں یہ محفل میں سبھی سے
جائے تو کہاں جائے گا دیوانہ ہمارا
کس کس سے چھپاؤ گے بتاؤ تو بھلا یہ
مستی میں ہواؤں کے ہے افسانہ ہمارا
پرکھوں کی یاد آتی ہے دالان دیکھ کر
دل بجھ گیا ہے اب اسے ویران دیکھ کر
پردہ منافقت کا ہر اک سُو بچھا دیا
دل رو پڑا ہے شہر کا رجحان دیکھ کر
اس دورِ مُفلسی نے عجب حال کر دیا
قیمت سبھی بتاتے ہیں میلان دیکھ کر
آنکھوں میں جاگتی ہے جو تحریر خواب کی
رہنے دو میرے پاس یہ جاگیر خواب کی
آتی ہے اس گلی سے مہکتی ہوئی صبا
بڑھنے لگی ہے اور بھی توقیر خواب کی
خود آپ اپنی جو کریں ہم جستجو تمام
مل جائے گی وہ ذات میں تنویر خواب کی
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
تصور میں روضہ نبیؐ کا بسا کے
ہوا بوجھ ہلکا غمِ دل سنا کے
محبت کا ان سے، یہی ہے تقاضا
درودوں کے تحفے رکھیں ہم سجا کے
معطر، معطر ، منور وہ گلیاں
نظر جگمگا دیں مدینہ دکھا کے
دُشوار زندگی کو بنائے گی ایک دن
سوچا نہ تھا کہ ایسے ستائے گی ایک دن
باتیں وہ اپنے دل کی سنائے گی ایک دن
واپس مجھے ضرور بلائے گی ایک دن
مانا کہ پاس آ کے ہیں بیٹھے خفا خفا
صحبت یہ اپنے رنگ دکھائے گی ایک دن
بسائے دل میں اسے حرفِ مدعا کی طرح
کتاب دل میں رکھا خواب نارسا کی طرح
غرورِ حسن عجب ہے کہ اپنی ہستی میں
بنا ہوا ہے سر انجمن خدا کی طرح
ہر ایک سمت طلسمی سوال رکھے تھے
یہ شہر، شہر بنا، شہر نینوا کی طرح
پُرکھوں کی یاد آتی ہے دالان دیکھ کر
دل بُجھ گیا ہے اب اسے ویران دیکھ کر
پردہ منافقت کا ہر اک سُو بچھا دیا
دل رو پڑا ہے شہر کا رجحان دیکھ کر
اس دورِ مُفلسی نے عجب حال کر دیا
قیمت سبھی بتاتے ہیں میلان دیکھ کر
دنیا میں مانتے ہیں کدورت ہے بڑھ گئی
سبقت کی ہر کسی میں، حسرت ہے بڑھ گئی
نفرت کے بیج بونے کی بدعت ہے بڑھ گئی
اپنوں کے درمیاں بھی عداوت ہے بڑھ گئی
ایسا ہے دور آیا کہ شہرت کی ہے طلب
کچھ صبر تو رہا نہیں عجلت ہے بڑھ گئی
ہر اک سو اب اجالا ہو گیا ہے
نبیﷺ کا بول بالا ہو گیا ہے
سجا کر ان کے سیرت کے نگینے
جو ادنیٰ تھا وہ اعلیٰ ہو گیا ہے
مِرے شہرِ نبی کی شان دیکھو
جہاں بھر سے نرالا ہو گیا ہے
لمحۂ کن میرے گمان میں ہے
نقش ابھرا ہوا چٹان میں ہے
کھول کر بادباں سر ساحل
ناخدا بھی تو امتحان میں ہے
کہہ رہی ہے ہوا کی سرگوشی
وہ شکاری ابھی مچان میں ہے
حسرت سے اپنے دل کو جلایا نہ کیجیے
آنسو💧 فضول اپنے بہایا نہ کیجیے
ظالم کا یوں بھی ساتھ نبھایا نہ کیجیے
مظلوم کا مذاق اڑایا نہ کیجیے
مظلوم کی ندا سے تو ہلتا ہے عرش بھی
مظلوم کی ندا کو دبایا نہ کیجیے