عارفانہ کلام نعتیہ کلام
تصور میں روضہ نبیؐ کا بسا کے
ہوا بوجھ ہلکا غمِ دل سنا کے
محبت کا ان سے، یہی ہے تقاضا
درودوں کے تحفے رکھیں ہم سجا کے
معطر، معطر ، منور وہ گلیاں
نظر جگمگا دیں مدینہ دکھا کے
صداقت، اخوت، دیانت، امانت
یہی درس ہیں بس رسولِ خداؐ کے
سجایا ہے ان کے لیے ہی دو عالم
جو ہیں آخری، اولیں انبیاء کے
اکرام الحق
No comments:
Post a Comment