Thursday, 17 February 2022

جو بھی کرتا ہے حفاظت دنیا میں کردار کی

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


جو بھی کرتا ہے حفاظت دنیا میں کردار کی

وہ ہی پائے گا شفاعت حشر میں سرکارﷺ کی

آج رحمت جوش میں ہے میرے ربِ غفارﷻ کی

اس سے مانگو سب دعائیں ہے گھڑی افطار کی

حسنِ یوسفؑ دیکھ کر تو کٹ گئی تھیں انگلیاں

سر ہمارے کٹ رہے ہیں چاہ میں سرکارﷺ کی

ہم ہزاروں جان سے قرباں ہیں انﷺ کی ذات پر

لوگ قیمت پوچھتے ہیں ہم سے انﷺ کے پیار کی

ہم جہاں میں جی رہے ہیں بس انہیں کے واسطے

اپنی ہستی سے زیادہ ہے طلب دیدارﷺ کی

ان کے رستے میں ہی نکلے جان میری اے خدا

یوں اگر ہو، پھر نہیں ہے چاہ اس سنسار کی

دل میں میرے جل رہا ہے انﷺ کی یادوں کا دیا

بس خدایاﷻ! چاہتا ہوں حاضری دربارﷺ کی

ان کے رستے پر چلوں میں دل سے اٹھتی ہے دعا

اے خدایاﷻ! سُن دعائیں تُو ہی اس لاچار کی

ان سے ارشد اس جہاں میں ہر طرف ہے روشنی

ہیں چمن کی آبرو وہﷺ، جان ہیں گلزار کی

انﷺ سے ناصر یہ جہاں سارا معطر ہو گیا

ہیں چمن کی آبرو وہﷺ، جان ہیں گلزار کی


ناصر سلیم

No comments:

Post a Comment