عارفانہ کلام منقبت سلام بر مولا علی
علیؑ کے چاہنے والوں میں میرا نام بھی ہے
خدا کا شکر ہے، بخشش کا اہتمام بھی ہے
یہی جو حُبِ علیؑ میں کلام لکھتا ہوں
ثواب اپنی جگہ ہے یہ انتقام بھی ہے
نبیؐ بھی میرا ہے مولا، مِرا علیؑ مولا
مِرا کفیل علیؑ ہے، علیؑ امام بھی ہے
علیؑ کے لختِ جگر پیکرِ رسولِؐ امیں
علیؑ پہ آپؐ کی حُجت کا اختتام بھی ہے
جنابِ حیدرِ کرّار افضل و برتر
بلند و بالا و اعلیٰ تریں مقام بھی ہے
بروز حشر جو جنت میں آپ جانے لگیں
مجھے بھی دیکھ کے کہنا مِرا غلام بھی ہے
کروں میں کیسے بیاں مِدحتِ علیؑ یا رب
میں بے نوا ہوں لہجہ ذرا سا عام بھی ہے
اگر جو بغضِ علیؑ ہے کسی کے سینے میں
وہ بادشاہ بھی ہو لاکھ تشنہ کام بھی ہے
قبول کیجیۓ اشرف!! کا آپ نذرانہ
یہ منقبت ہی نہیں ہے مِرا سلام بھی ہے
اشرف علی
No comments:
Post a Comment