Wednesday, 16 February 2022

میں تمہیں وہ قیمت نہیں دے سکتی جو تم طلب کرتے ہو

 غیر ضروری بارش کا مول


میں تمہیں کبھی کسی بات کا یقین نہیں دلا سکتی

میں نے تم سے آدھا سچ بولا

آدھا سچ بہروپیے نے کھا لیا

وہ بہت بھوکا تھا

میرے پاس باسی بچی ہوئی روٹی کے ٹکڑے تھے

میں نے اسے بیچ کر پانی خرید لیا

تم پانچواں موسم ہو

اور میں چار موسموں میں برساتی نالوں کی 

گزر گاہ رہی ہوں

سورج نکلنے سے پہلے 

بادل بستی پر حملہ آور ہوئے تھے

وہ سب کچھ چھین کر لے گئے

میرے پاس پرانے لوہے کا دل 

اور پلاسٹک کی ٹوٹی ہوئی ہمدردیوں کے سوا 

تمہیں دینے کے لیے کچھ نہیں بچا

سیلاب زدہ علاقوں میں بارشیں مشکل سے بکتی ہیں

لوگوں کی قوت خرید نہیں ہوتی

میں تمہیں سمندر میں کھارا پانی ملانے کی 

وہ قیمت نہیں دے سکتی

جو تم طلب کرتے ہو


خوش بخت بانو

No comments:

Post a Comment