غیر ضروری بارش کا مول
میں تمہیں کبھی کسی بات کا یقین نہیں دلا سکتی
میں نے تم سے آدھا سچ بولا
آدھا سچ بہروپیے نے کھا لیا
وہ بہت بھوکا تھا
میرے پاس باسی بچی ہوئی روٹی کے ٹکڑے تھے
میں نے اسے بیچ کر پانی خرید لیا
تم پانچواں موسم ہو
اور میں چار موسموں میں برساتی نالوں کی
گزر گاہ رہی ہوں
سورج نکلنے سے پہلے
بادل بستی پر حملہ آور ہوئے تھے
وہ سب کچھ چھین کر لے گئے
میرے پاس پرانے لوہے کا دل
اور پلاسٹک کی ٹوٹی ہوئی ہمدردیوں کے سوا
تمہیں دینے کے لیے کچھ نہیں بچا
سیلاب زدہ علاقوں میں بارشیں مشکل سے بکتی ہیں
لوگوں کی قوت خرید نہیں ہوتی
میں تمہیں سمندر میں کھارا پانی ملانے کی
وہ قیمت نہیں دے سکتی
جو تم طلب کرتے ہو
خوش بخت بانو
No comments:
Post a Comment