بیوپار
لاؤ مجھ کو دکھلاؤ تو
آنکھوں میں ہیں کیسے خواب؟
کچے ہیں یا پکے خواب؟
اچھا ان کے دام بتاؤ
دیکھو اتنا ذہن میں رکھنا
اس بازار میں خوابوں کے اب دام گرے ہیں
سچ سچ میں اک بات بتاؤں؟
برسوں پہلے میں نے بھی یہ کام کیا تھا
خواب بنے تھے، خواب تھے بیچے
مجھ کو تو یہ گورکھ دهنده راس نہ آیا
نیند گنوائی، چين گنوايا
ديکهو ميرا کہنا مانو
ایسا کاروبار نہ کرنا
خوابوں کا بیوپار نہ کرنا
ايسے کاروبار ميں اکثر
گهاٹا سہنا پڑتا ہے
کچے سپنے ٹوٹ گريں تو
آنکھیں چھلنی کرتے ہیں
نیند کا پنچھی کھو جاتا ہے
جینا مشکل ہو جاتا ہے
ارشد محمود
No comments:
Post a Comment