Showing posts with label شان الحق حقی. Show all posts
Showing posts with label شان الحق حقی. Show all posts

Monday, 16 October 2023

نغمۂ محمدی وہ پاکیزہ چشمہ جو اوج فلک سے چٹانوں پہ اترا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

نغمۂ محمدی 


وہ پاکیزہ چشمہ

جو اوجِ فلک سے چٹانوں پہ اترا

سحابوں سے اوپر بلند آسمانوں پہ 

جولاں ملائک کی چشم نگہداشت کے سائے سائے

چٹانوں کی آغوش میں عہد برنائی تک جوئے جولاں بنا

چٹانوں سے نیچے اترتے اترتے

Wednesday, 26 October 2016

سمجھ میں خاک یہ جادوگری نہیں آتی

سمجھ میں خاک یہ جادوگری نہیں آتی 
چراغ جلتے ہیں اور روشنی نہیں آتی
کسی کے ناز پہ افسردہ خاطری دل کی 
ہنسی کی بات ہے پھر بھی ہنسی نہیں آتی
نہ پوچھ ہیّت طرف و چمن کہ ایسی بھی 
بہار باغ میں بہکی ہوئی نہیں آتی

اک تمنا کہ سحر سے کہیں کھو جاتی ہے

اک تمنا کہ سحر سے کہیں کھو جاتی ہے
شب کو آ کر مِرے آغوش میں سو جاتی ہے
یہ نگاہوں کے اندھیرے نہیں چھٹنے پاتے
صبح کا ذکر نہیں، صبح تو ہو جاتی ہے
رشتۂ جاں کو سنبھالے ہوں کہ اکثر تِری یاد
اس میں دو چار گہر آ کے پِرو جاتی ہے

Friday, 13 November 2015

جس نے اک خس کے لیے صحرا کو چھانا ہوئے گا

جس نے اک خس کے لیے صحرا کو چھانا ہوئے گا
کون ہو گا، کوئی ہم سا ہی دوانہ ہوئے گا
تم کو دل کی راہ سے خلوت میں آنا ہوئے گا
چشمِ وا میں تو سجن سارا زمانہ ہوئے گا
خود رہو دنیا میں یا پہلو میں بساؤ
سن رکھو، پھر ایک دن پیچھا چھڑانا ہوئے گا

وہ مزا رکھتے ہیں کچھ تازہ فسانے اپنے

وہ مزا رکھتے ہیں کچھ تازہ فسانے اپنے
بھولتے جاتے ہیں سب درد پرانے اپنے
حال میں اپنے کچھ اس طرح مگن ہیں گویا
ہم نے دیکھے ہی نہیں اگلے زمانے اپنے
کر کے اک بار تِری چشمِ فسوں گر کے سپرد
پھر نہ پوچھا کبھی بندوں کا خدا نے اپنے

Tuesday, 11 August 2015

نکلے تری دنیا کے ستم اور طرح کے

نکلے تِری دنیا کے سِتم اور طرح کے
درکار مِرے دل کو تھے غم اور طرح کے
تم اور طرح کے سہی، ہم اور طرح کے
ہو جائیں گے بس قول و قسم اور طرح کے
بت خانے کا منظر بخدا آج ہی دیکھا
تھے میرے تصوّر میں صنم اور طرح کے

پائی نہ کوئی منزل پہنچیں نہ کہیں راہیں

پائی نہ کوئی منزل پہنچیں نہ کہیں راہیں
بھٹکا کے رہیں مجھ کو آوارہ گزر گاہیں
آلامِ زمانہ سے چھوٹیں تو تجھے چاہیں
مصروفِ مشقت ہیں حسرت سے بھری بانہیں
صحرا ہی سے گزری تھیں کھوئی گئیں جو راہیں
بتلائیں گے یہ چشمے، یہ بَن یہ چراگاہیں

Wednesday, 27 May 2015

امید کے افق سے نہ اٹھا غبار تک

امید کے افق سے نہ اٹھا غبار تک
دیکھی اگرچہ راہ، خزاں سے بہار تک
رکھنے کو تیرے وعدۂ نامعتبر کی لاج
جھیلی ہے دل نے زحمتِ صبر و قرار تک
دیکھا ہے کس نے منہ سحرِ جلوہ ساز کا
سب ولولے ہیں ایک شبِ انتظار تک

اک مہک سی دم تحریر کہاں سے آئی

اِک مہک سی دمِ تحریر کہاں سے آئی
نام میں تیرے یہ تاثیر کہاں سے آئی
پہلوئے ساز سے اِک موجِ ہوا گزری تھی
یہ چھنکتی ہوئی زنجیر کہاں سے آئی
دَم ہمارا تو رہا حلقۂ لب ہی میں اسیر
بُوئے گل یہ تِری تقدیر کہاں سے آئی

Saturday, 31 August 2013

نظر سے جستجو بے کار نکلی

نظر سے جستجو بے کار نکلی
خود اپنے آپ سے دو چار نکلی
خِرد کو تھی یہ خوش فہمی کہ دَر ہے
پسِ دِیوار بھی، دِیوار نکلی
مجھے حسرت تھی جس تابِ سخن کی
وہی شے اس کو بھی درکار نکلی

بھلا دو رنج کی باتوں میں کیا ہے

بھلا دو رنج کی باتوں میں کیا ہے
اِدھر دیکھو میری آنکھوں میں کیا ہے
بہت تاریک دن ہے، پھر بھی دیکھو
اجالا چاندنی راتوں میں کیا ہے
نہیں پاتیں جسے بیدار نظریں
خدایا! یہ میرے خوابوں میں کیا ہے

ہر چند کہ ساغر کی طرح جوش میں رہیے

ہر چند کہ ساغر کی طرح جوش میں رہیے
ساقی سے مِلے آنکھ تو پھر ہوش میں رہیے
کچھ اسکے تصوّر میں وہ راحت ہے کہ برسوں
بیٹھے یونہی اس وادیٔ گُل پوش میں رہیے
اک سادہ تبسّم میں وہ جادو ہے کہ پہروں
ڈُوبے ہوئے اک نغمۂ خاموش میں رہیے

تم سے الفت کے تقاضے نہ نباہے جاتے

تم سے الفت کے تقاضے، نہ نباہے جاتے
ورنہ ہم کو بھی تمنا تھی، کہ چاہے جاتے
دل کے ماروں کا نہ کر غم، کہ یہ اندوہ نصیب
درد بھی دل میں نہ ہوتا، تو کراہے جاتے
کاش، اے ابرِ بہاری! تِرے بہکے سے قدم
میری اُمیّد کے صحرا میں بھی، گاہے جاتے