نیلا آسمان
میری بچی نے مجھ سے کل پُوچھا
بابا یہ آسماں ہے نیلا کیوں؟
میں نے سوچا پر اس سے کہہ نہ سکا
یہ سوال اس کے دل میں آیا کیوں؟
کیوں یہ باتیں ہیں اتنی دلآویز
نیلا آسمان
میری بچی نے مجھ سے کل پُوچھا
بابا یہ آسماں ہے نیلا کیوں؟
میں نے سوچا پر اس سے کہہ نہ سکا
یہ سوال اس کے دل میں آیا کیوں؟
کیوں یہ باتیں ہیں اتنی دلآویز
خلش و سوز دلفگار ہی دی
دل میں شمشیر آبدار ہی دی
بے وفا سے معاملے کے لیے
اک طبیعت وفا شعار ہی دی
کیفیت دل کی بیان کرنے کو
ایک آواز دلفگار ہی دی
واپسی
میں نے سوچا تمہیں مدت سے نہیں دیکھا ہے
دل بہت دن سے ہے بے چین چلوں گھر ہو آؤں
دور سے گھر نظر آیا روشن
ساری بستی میں ملا ایک مِرا گھر بے خواب
پاس پہنچا تو وہ دیکھا جو نگاہوں میں مِری گھوم رہا ہے اب تک
واپسی
میں نے سوچا تمہیں مدت سے نہیں دیکھا ہے
دل بہت دن سے ہے بے چین چلوں گھر ہو آؤں
دور سے گھر نظر آیا روشن
ساری بستی میں ملا ایک مرا گھر بے خواب
پاس پہنچا تو وہ دیکھا
بے محل ہے گُفتگو ہیں بے اثر اشعار ابھی
زندگی بے لطف ہے نا پختہ ہیں افکار ابھی
پوچھتے رہتے ہیں غیروں سے ابھی تک میرا حال
آپ تک پہنچے نہیں شاید مِرے اشعار ابھی
زندگی گزری ابھی اس آگ کے گرداب میں
دل سے کیوں جانے لگی حرصِ لب و رُخسار ابھی
میں نہیں جا پاؤں گا یارو سُوئے گُلزار ابھی
دیکھنی ہے آبجُوئے زیست کی رفتار ابھی
کر چکا ہوں پار یہ دریا نہ جانے کتنی بار
پار یہ دریا کروں گا اور کتنی بار ابھی؟
گُھوم پھر کر دشت و صحرا پھر وہیں لے آئے پاؤں
دل نہیں ہے شاید اس نظارے سے بیزار ابھی