Showing posts with label حبیب تنویر. Show all posts
Showing posts with label حبیب تنویر. Show all posts

Wednesday, 19 August 2026

بابا یہ آسماں ہے نیلا کیوں

 نیلا آسمان


میری بچی نے مجھ سے کل پُوچھا

بابا یہ آسماں ہے نیلا کیوں؟

میں نے سوچا پر اس سے کہہ نہ سکا

یہ سوال اس کے دل میں آیا کیوں؟

کیوں یہ باتیں ہیں اتنی دلآویز

Friday, 24 July 2026

خلش و سوز دلفگار ہی دی

 خلش و سوز دلفگار ہی دی 

دل میں شمشیر آبدار ہی دی 

بے وفا سے معاملے کے لیے 

اک طبیعت وفا شعار ہی دی 

کیفیت دل کی بیان کرنے کو 

ایک آواز دلفگار ہی دی 

Monday, 15 June 2026

واپسی میں نے سوچا تمہیں مدت سے نہیں دیکھا ہے

 واپسی


میں نے سوچا تمہیں مدت سے نہیں دیکھا ہے

دل بہت دن سے ہے بے چین چلوں گھر ہو آؤں

دور سے گھر نظر آیا روشن

ساری بستی میں ملا ایک مِرا گھر بے خواب

پاس پہنچا تو وہ دیکھا جو نگاہوں میں مِری گھوم رہا ہے اب تک

Tuesday, 9 June 2026

دل بہت دن سے ہے بے چین چلوں گھر ہو آؤں

 واپسی


میں نے سوچا تمہیں مدت سے نہیں دیکھا ہے

دل بہت دن سے ہے بے چین چلوں گھر ہو آؤں

دور سے گھر نظر آیا روشن

ساری بستی میں ملا ایک مرا گھر بے خواب

پاس پہنچا تو وہ دیکھا 

Sunday, 28 March 2021

بے محل ہے گفتگو ہیں بے اثر اشعار ابھی

بے محل ہے گُفتگو ہیں بے اثر اشعار ابھی 

زندگی بے لطف ہے نا پختہ ہیں افکار ابھی 

پوچھتے رہتے ہیں غیروں سے ابھی تک میرا حال 

آپ تک پہنچے نہیں شاید مِرے اشعار ابھی 

زندگی گزری ابھی اس آگ کے گرداب میں 

دل سے کیوں جانے لگی حرصِ لب و رُخسار ابھی 

Sunday, 28 February 2021

میں نہیں جا پاؤں گا یارو سوئے گلزار ابھی

میں نہیں جا پاؤں گا یارو سُوئے گُلزار ابھی 

دیکھنی ہے آبجُوئے زیست کی رفتار ابھی

کر چکا ہوں پار یہ دریا نہ جانے کتنی بار 

پار یہ دریا کروں گا اور کتنی بار ابھی؟

گُھوم پھر کر دشت و صحرا پھر وہیں لے آئے پاؤں 

دل نہیں ہے شاید اس نظارے سے بیزار ابھی