Sunday, 28 February 2021

میں نہیں جا پاؤں گا یارو سوئے گلزار ابھی

میں نہیں جا پاؤں گا یارو سُوئے گُلزار ابھی 

دیکھنی ہے آبجُوئے زیست کی رفتار ابھی

کر چکا ہوں پار یہ دریا نہ جانے کتنی بار 

پار یہ دریا کروں گا اور کتنی بار ابھی؟

گُھوم پھر کر دشت و صحرا پھر وہیں لے آئے پاؤں 

دل نہیں ہے شاید اس نظارے سے بیزار ابھی

کاوش پیہم ابھی یہ سلسلہ رکنے نہ پائے 

جان ابھی آنکھوں میں ہے اور پاؤں میں رفتار ابھی

اے مِرے ارمان دل بس اک ذرا کچھ اور صبر 

رات ابھی کٹنے کو ہے ملنے کو بھی ہے یار ابھی

جذبۂ دل دیکھنا بھٹکا نہ دینا راہ سے 

مُنتظر ہو گا مِرا بھی خود مِرا دلدار ابھی

ہوں گی تو اس رہگزر میں بھی کمیں گاہیں ہزار 

پھر بھی یہ بارِ سفر کیوں ہو مجھے دُشوار ابھی 


حبیب تنویر

No comments:

Post a Comment