Showing posts with label جیا قریشی. Show all posts
Showing posts with label جیا قریشی. Show all posts

Friday, 16 January 2026

جہاں کا نقش سنوارا حضور کے دم سے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جہاں کا نقش سنوارا حضورؐ کے دم سے

ملا ہے فیض یہ سارا حضور کے دم سے

لگا سکے گا بھلا کون برکتوں کا سراغ

عروج پر ہے ستارا حضور کے دم سے

نگاہ سُوئے مدینہ نجانے کب سے ہے

ہے رحمتوں کا اشارا حضور کے دم سے

Wednesday, 21 December 2022

خواب سے ہوتا ہے پھر پار مری زلف کا خم

 خواب سے ہوتا ہے پھر پار مِری زلف کا خم

اس کو یوں رکھتا ہے بیدار مری زلف کا خم

مضطرب کرنے کو پر تول رہی ہے مری آنکھ

دل میں کُھبنے کو ہے تیار مری زلف کا خم

ایک بادل ہے مِرے سر پہ ضیا باری کا

اور اک نشے سے سرشار مری زلف کا خم

Tuesday, 27 September 2022

محبت میں جو دل خمیدہ رہے ہیں

 محبت میں جو دل خمیدہ رہے ہیں

وہی زندگی میں دمیدہ رہے ہیں

بہت کُھل کے برسے محبت کے بادل

بڑی دیر تک آبدیدہ رہے ہیں

وہی لوگ صحرا دکھائی دئیے کیوں

جو دشتِ جنوں میں نمیدہ رہے ہیں

Sunday, 18 September 2022

صبر و رضا کا درس ملا کربلا سے ہے

عارفانہ کلام منقبت سلام


صبر و رضا کا درس ملا کربلا سے ہے

نسبت کا سلسلہ جو مِرا کربلا سے ہے

پانی پہ جنگ ہو گی مِری پهر یزید سے

پانی کا مسئلہ جو اٹھا کربلا سے ہے

ویسے تو جاں نثار ہیں کتنے ہی دین پر

رتبے میں ہر شہید بڑا کربلا سے ہے

Sunday, 11 September 2022

درد دل ہم کو ستاتا ہے بہت راتوں میں

 دردِ دل ہم کو ستاتا ہے بہت راتوں میں

چین پڑتا ہے کہاں پیار کی برساتوں میں

ہم بھلا تیرے خد و خال کہاں دیکھتے ہیں

ہم تو کھو جاتے ہیں اے شخص تِری باتوں می

سانحہ کوئی ہمیں تاک نہیں سکتا ہے

ہم ہیں محفوظ محبت کے حسیں ہاتھوں می

Wednesday, 31 August 2022

اوروں کو تو پھولوں کے کئی رنگ دکھائے

 اوروں کو تو پھولوں کے کئی رنگ دِکھائے

ہم لوگوں کو دنیا نے فقط سنگ دکھائے

ہم نے بھی بہت اس کو نئے پن سے پکارا

اس نے بھی محبت کے نئے ڈھنگ دکھائے

وہ آئے، ہمیں رنجش و نفرت ہی سجھائے

وہ آئے، ہمیں دل کا وہی زنگ دکھائے

Tuesday, 30 August 2022

چند سانسوں کی زندگی سے لڑ

 چند سانسوں کی زندگی سے لڑ

روشنی ہے تو آگہی سے لڑ

نفرتوں کی شِدت سے لازم ہے

اے محبت! نہ بے دلی سے لڑ

عشق لمبی اننگز مانگتا ہے

کھیلنا ہے تو دل لگی سے لڑ

Thursday, 17 March 2022

ترے خیال کا محور ہے آشیانہ ہمیں

 تِرے خیال کا محور ہے آشیانہ ہمیں

سو اپنی جان سے پیارا ہے یہ ٹھکانہ ہمیں

تِرے وجود کی قربت نہال رکھتی ہے

تِرے خیال کا موسم ہے عاشقانہ ہمیں

ہماری طرح کسی دیس کا پرندہ ہے

سنا رہا ہے کہانی جو عاشقانہ ہمیں