عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جہاں کا نقش سنوارا حضورؐ کے دم سے
ملا ہے فیض یہ سارا حضور کے دم سے
لگا سکے گا بھلا کون برکتوں کا سراغ
عروج پر ہے ستارا حضور کے دم سے
نگاہ سُوئے مدینہ نجانے کب سے ہے
ہے رحمتوں کا اشارا حضور کے دم سے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جہاں کا نقش سنوارا حضورؐ کے دم سے
ملا ہے فیض یہ سارا حضور کے دم سے
لگا سکے گا بھلا کون برکتوں کا سراغ
عروج پر ہے ستارا حضور کے دم سے
نگاہ سُوئے مدینہ نجانے کب سے ہے
ہے رحمتوں کا اشارا حضور کے دم سے
خواب سے ہوتا ہے پھر پار مِری زلف کا خم
اس کو یوں رکھتا ہے بیدار مری زلف کا خم
مضطرب کرنے کو پر تول رہی ہے مری آنکھ
دل میں کُھبنے کو ہے تیار مری زلف کا خم
ایک بادل ہے مِرے سر پہ ضیا باری کا
اور اک نشے سے سرشار مری زلف کا خم
محبت میں جو دل خمیدہ رہے ہیں
وہی زندگی میں دمیدہ رہے ہیں
بہت کُھل کے برسے محبت کے بادل
بڑی دیر تک آبدیدہ رہے ہیں
وہی لوگ صحرا دکھائی دئیے کیوں
جو دشتِ جنوں میں نمیدہ رہے ہیں
عارفانہ کلام منقبت سلام
صبر و رضا کا درس ملا کربلا سے ہے
نسبت کا سلسلہ جو مِرا کربلا سے ہے
پانی پہ جنگ ہو گی مِری پهر یزید سے
پانی کا مسئلہ جو اٹھا کربلا سے ہے
ویسے تو جاں نثار ہیں کتنے ہی دین پر
رتبے میں ہر شہید بڑا کربلا سے ہے
دردِ دل ہم کو ستاتا ہے بہت راتوں میں
چین پڑتا ہے کہاں پیار کی برساتوں میں
ہم بھلا تیرے خد و خال کہاں دیکھتے ہیں
ہم تو کھو جاتے ہیں اے شخص تِری باتوں می
سانحہ کوئی ہمیں تاک نہیں سکتا ہے
ہم ہیں محفوظ محبت کے حسیں ہاتھوں می
اوروں کو تو پھولوں کے کئی رنگ دِکھائے
ہم لوگوں کو دنیا نے فقط سنگ دکھائے
ہم نے بھی بہت اس کو نئے پن سے پکارا
اس نے بھی محبت کے نئے ڈھنگ دکھائے
وہ آئے، ہمیں رنجش و نفرت ہی سجھائے
وہ آئے، ہمیں دل کا وہی زنگ دکھائے
چند سانسوں کی زندگی سے لڑ
روشنی ہے تو آگہی سے لڑ
نفرتوں کی شِدت سے لازم ہے
اے محبت! نہ بے دلی سے لڑ
عشق لمبی اننگز مانگتا ہے
کھیلنا ہے تو دل لگی سے لڑ
تِرے خیال کا محور ہے آشیانہ ہمیں
سو اپنی جان سے پیارا ہے یہ ٹھکانہ ہمیں
تِرے وجود کی قربت نہال رکھتی ہے
تِرے خیال کا موسم ہے عاشقانہ ہمیں
ہماری طرح کسی دیس کا پرندہ ہے
سنا رہا ہے کہانی جو عاشقانہ ہمیں