Thursday, 17 March 2022

ترے خیال کا محور ہے آشیانہ ہمیں

 تِرے خیال کا محور ہے آشیانہ ہمیں

سو اپنی جان سے پیارا ہے یہ ٹھکانہ ہمیں

تِرے وجود کی قربت نہال رکھتی ہے

تِرے خیال کا موسم ہے عاشقانہ ہمیں

ہماری طرح کسی دیس کا پرندہ ہے

سنا رہا ہے کہانی جو عاشقانہ ہمیں

کوئی تو ملنے ملانے کا سلسلہ ٹھہرے

قبول کرنا پڑا ہے یہ آنا جانا ہمیں

تمام عمر گزاریں جیا عقیدت میں

درِ رسولؐ کا مل جائے آستانہ ہمیں

ہمارے ہونٹوں کی لرزش جیا ملول رہی

شدید دُکھ میں پڑا آج مسکرانا ہمیں


جیا قریشی

No comments:

Post a Comment