Thursday, 17 March 2022

میں گنہگار اگر ہوں تو سزا دی جائے

میں گُنہ گار اگر ہوں تو سزا دی جائے

ورنہ لوگو! مجھے پھر دادِ وفا دی جائے

تم مجھے چاہتے ہو چاہتے ہو تو صاحب

کیوں نہ یہ بات زمانہ کو بتا دی جائے

ایک چنگاری بدل دے کہیں جنگل کا مزاج

اس سے پہلے ہی تہِ خاک دبا دی جائے

جو نہ رُوٹھے اسے چھاتی سے لگانا بہتر

رُوٹھنے والے کو ہنسنے کی دُعا دی جائے

شام دُھندلائی ہوئی، اور بھیانک جنگل

ایسے ماحول میں اب کس کو صدا دی جائے

گر کوئی رسم بُری ہے تو گوارا کیونکر

ہر بُری رسم زمانے سے ہٹا دی جائے


محمد قاسم رسا

No comments:

Post a Comment