Thursday, 17 March 2022

اگر ہمارے رنگ اور ہمارے نام ایک سے نہیں تو کیا

نظم "اہلِ زمین کے نام" سے اقتباس


اگر ہمارے رنگ اور ہمارے نام ایک سے نہیں تو کیا؟

اگر ہماری سرزمیں بانٹ دی گئی تو کیا؟

اگر ہمارے سر پہ آسماں کے سائِباں کی دھجیاں اڑیں تو کیا ہوا؟

سنو ہم ایک ہیں

ہم ایک ہیں ہم ایک تھے مگر نہ جانے کیسے 

کب ہمارے چار سُو حصارِ درد کون چُن گیا؟

ابھی ہمارے جسم سانس لے رہے ہیں، ان پہ تارِعنکبوتِ مرگ کون بُن گیا

ہمارے دل کے آئینے پہ گرد کس نے ڈال دی؟

ضو چراغِ عقل کی کیوں دُھواں دُھواں ہوئی؟

یہ سب سوال، ساری اُلجھنیں اور ان کے سب جواب ایک ہیں

ستم کی سب کہانیوں کے، جبر کی حکایتوں کے سارے باب ایک ہیں

مشقتوں کے بوجھ سے دبے ہوئے، عقوبتوں کے خوف سے ڈرے ہوئے

تمام خستہ تن سب خراب ایک ہیں

مگر محبتوں کے، امن کے صداقتوں کے خواب ایک ہیں


نزہت صدیقی

No comments:

Post a Comment