نقاب رُخ سے ہٹاتے تو رات کٹ جاتی
نظر نظر سے ملاتے تو رات کٹ جاتی
تمہاری دِید کو ترسے ہوئے تھے ہم اور تم
بس اک نظر کو اُٹھاتے تو رات کٹ جاتی
شبِ وصال، ستارے بھی توڑ لاتے ہم
ستارے توڑنے جاتے تو رات کٹ جاتی
نقاب رُخ سے ہٹاتے تو رات کٹ جاتی
نظر نظر سے ملاتے تو رات کٹ جاتی
تمہاری دِید کو ترسے ہوئے تھے ہم اور تم
بس اک نظر کو اُٹھاتے تو رات کٹ جاتی
شبِ وصال، ستارے بھی توڑ لاتے ہم
ستارے توڑنے جاتے تو رات کٹ جاتی
دھوپ میں ساتھ مِرے وہ بھی جلا کرتا تھا
وہ جو اک سایہ مرے ساتھ چلا کرتا تھا
اک دِیا تھا کہ جو جلتے ہی بجھا کرتا تھا
اور دُھواں سا مرے سینے سے اُٹھا کرتا تھا
درد بن کے مرے پہلو میں رہا کرتا تھا
جو مرے واسطے سجدے بھی کِیا کرتا تھا
آنسو کی طرح مجھ کو گرا کیوں نہیں دیتے
اک اور نیا زخم لگا کیوں نہیں دیتے
بکھرے ہوئے پتوں کو جلا کیوں نہیں دیتے
بے کار امنگوں کو سُلا کیوں نہیں دیتے
بیتابئ دل💝 اور بڑھا کیوں نہیں دیتے
اب پھر سے بچھڑنے کی سزا کیوں نہیں دیتے
رات نکلا ہی تھا مہتاب تو تُو یاد آیا
حد سے جب دل ہوا بیتاب تو تو یاد آیا
سوچتا تھا کہ تجھے دل سے بھلا دوں لیکن
بھولنے کے ہوئے اسباب تو تو یاد آیا
مجھ کو تھا زعم کہ میں اس پار پہنچ جاوں گا
میری کشتی ہوئی غرقاب تو تو یاد آیا
اشک دامن میں گِرا ہو جیسے
اک نیا زخم لگا ہو جیسے
پھر کوئی ٹِیس اٹھی ہے دل میں
پھر کوئی پھول کِھلا ہو جیسے
خواب ٹُوٹا تو شور اتنا تھا
آئینہ ٹُوٹ گیا ہو جیسے
ہوا کا ایک بھی جھونکا نہیں تھا
مجھے اس کا کوئی صدمہ نہیں تھا
میں برسوں دھوپ میں جلتا رہا ہوں
مِرے سر پر کوئی سایہ نہیں تھا
خزاں کی زردیاں چھائی ہوئی تھیں
بہاروں کا کہیں چرچا نہیں تھا