Showing posts with label شاہد مرزا. Show all posts
Showing posts with label شاہد مرزا. Show all posts

Thursday, 17 March 2022

نقاب رخ سے ہٹاتے تو رات کٹ جاتی

 نقاب رُخ سے ہٹاتے تو رات کٹ جاتی

نظر نظر سے ملاتے تو رات کٹ جاتی

تمہاری دِید کو ترسے ہوئے تھے ہم اور تم

بس اک نظر کو اُٹھاتے تو رات کٹ جاتی

شبِ وصال، ستارے بھی توڑ لاتے ہم

ستارے توڑنے جاتے تو رات کٹ جاتی

Thursday, 3 March 2022

دھوپ میں ساتھ مرے وہ بھی جلا کرتا تھا

 دھوپ میں ساتھ مِرے وہ بھی جلا کرتا تھا

وہ جو اک سایہ مرے ساتھ چلا کرتا تھا

اک دِیا تھا کہ جو جلتے ہی بجھا کرتا تھا

اور دُھواں سا مرے سینے سے اُٹھا کرتا تھا

درد بن کے مرے پہلو میں رہا کرتا تھا

جو مرے واسطے سجدے بھی کِیا کرتا تھا

Tuesday, 15 February 2022

آنسو کی طرح مجھ کو گرا کیوں نہیں دیتے

 آنسو کی طرح مجھ کو گرا کیوں نہیں دیتے

اک اور نیا زخم لگا کیوں نہیں دیتے

بکھرے ہوئے پتوں کو جلا کیوں نہیں دیتے

بے کار امنگوں کو سُلا کیوں نہیں دیتے

بیتابئ دل💝 اور بڑھا کیوں نہیں دیتے

اب پھر سے بچھڑنے کی سزا کیوں نہیں دیتے

Monday, 14 February 2022

رات نکلا ہی تھا مہتاب تو تو یاد آیا

 رات نکلا ہی تھا مہتاب تو تُو یاد آیا

حد سے جب دل ہوا بیتاب تو تو یاد آیا

سوچتا تھا کہ تجھے دل سے بھلا دوں لیکن

بھولنے کے ہوئے اسباب تو تو یاد آیا

مجھ کو تھا زعم کہ میں اس پار پہنچ جاوں گا

میری کشتی ہوئی غرقاب تو تو یاد آیا

Sunday, 13 February 2022

اشک دامن میں گرا ہو جیسے

 اشک دامن میں گِرا ہو جیسے

اک نیا زخم لگا ہو جیسے

پھر کوئی ٹِیس اٹھی ہے دل میں

پھر کوئی پھول کِھلا ہو جیسے

خواب ٹُوٹا تو شور اتنا تھا

آئینہ ٹُوٹ گیا ہو جیسے

Sunday, 6 June 2021

ہوا کا ایک بھی جھونکا نہیں تھا

 ہوا کا ایک بھی جھونکا نہیں تھا

مجھے اس کا کوئی صدمہ نہیں تھا

میں برسوں دھوپ میں جلتا رہا ہوں

مِرے سر پر کوئی سایہ نہیں تھا

خزاں کی زردیاں چھائی ہوئی تھیں

بہاروں کا کہیں چرچا نہیں تھا