ہوا کا ایک بھی جھونکا نہیں تھا
مجھے اس کا کوئی صدمہ نہیں تھا
میں برسوں دھوپ میں جلتا رہا ہوں
مِرے سر پر کوئی سایہ نہیں تھا
خزاں کی زردیاں چھائی ہوئی تھیں
بہاروں کا کہیں چرچا نہیں تھا
تھی میرے سامنے ہی میری منزل
مگر آگے کوئی رستہ نہیں تھا
یہ بے چینی، یہ لاچاری، یہ الجھن
مِری آنکھوں میں، یہ نقشہ نہیں تھا
بڑی مشکل سے پائی ہے یہ منزل
سفر میں کوئی بھی اپنا نہیں تھا
بہت پیماں کئے تھے اس نے شاہد
وہ بے پرواہ کبھی آیا نہیں تھا
شاہد مرزا
No comments:
Post a Comment