محفل میں بار بار کسی پر نظر گئی
ہم نے بچائی لاکھ مگر پھر اُدھر گئی
ان کی نظر میں کوئی تو جادو ضرور ہے
جس پر پڑی اُسی کے جگر تک اُتر گئی
اس بیوفا کی آنکھ سے آنسو چھلک پڑے
حسرت بھری نگاہ بڑا کام کر گئی
ان کے جمالِ رُخ پہ انہیں کا جمال تھا
وہ چل دئیے تو رونقِ شام و سحر گئی
ان کو خبر کرو کہ ہے بسمل قریبِ مرگ
وہ آئیں گے ضرور جو اُن تک خبر گئی
آغا بسمل
No comments:
Post a Comment