Sunday, 6 June 2021

غم کا سورج کبھی ڈھلتا ہی نہیں

 غم کا سورج کبھی ڈھلتا ہی نہیں

آسماں رنگ بدلتا ہی نہیں

دے دیا جاتا ہے قبضہ دل پر

دل تو سینے سے نکلتا ہی نہیں

کہتے ہیں اونچی اڑانوں والے

جو گرا پھر وہ سنبھلتا ہی نہیں

ہے خوشامد ہی سے آمد لیکن

وہ خوشامد سے پگھلتا ہی نہیں

گاؤں بھر خوفزدہ ہے اس سے

جو کبھی گھر سے نکلتا ہی نہیں

کسی انسان کا دل ہو کہ چراغ

بے جلائے کبھی جلتا ہی نہیں

خامشی ہے تو بڑی چیز، مگر

کام چُپ رہنے سے چلتا ہی نہیں

شاعری کر کے بھی دیکھا ہے شکیل

دل میں کچھ ہے جو نکلتا ہی نہیں


شکیل گوالیاری

No comments:

Post a Comment