Showing posts with label وسیم حیدر. Show all posts
Showing posts with label وسیم حیدر. Show all posts

Friday, 9 July 2021

وقت کا پہیہ الٹی سمت میں گھومنے لگا ہے

 تمہارے جنم دن پر


وقت کا پہیہ الٹی سمت میں گھومنے لگا ہے

میں شدید متجسس شاید کسی منظر کی تلاش میں ہوں

میں دیکھ رہا ہوں انسان کی تخلیق کا منظر

میں دیکھ رہا ہوں؛

 فرشتوں کو اک دُوجے کے کانوں میں سرگوشیاں کرتے ہوئے

یوں لگتا ہے یہ سب اس تخلیق سے خوش نہیں ہیں

Tuesday, 6 July 2021

بنی رہی ہے مصیبت مری انا بڑی دیر

 بنی رہی ہے مصیبت مِری انا بڑی دیر

گلے لگا کے تجھے رو نہیں سکا بڑی دیر

ہوس نہ پوری ہوئی جب کہیں تو علم ہوا

تِرے بدن کا رہا مجھ کو آسرا بڑی دیر

میں آج خود سے مِلا اور بہت سی باتیں کیں

تمہارا ذکر کِیا، رویا، پھر ہنسا بڑی دیر

Sunday, 4 July 2021

مجھے شاعری سکھاؤ گے تم اچھے شاعر ہو

 مجھے شاعری سکھاؤ گے؟

تم اچھے شاعر ہو

تمہارے شعروں میں مجھے اپنے لیے محبت نظر آتی ہے

میں چاہتی ہوں میں بھی شعر کہوں اور تم پڑھو اور مسکراؤ 

بالکل ایسے ہی جیسے میں تمہارے شعر پڑھ کے مسکراتی ہوں

لیکن مجھے نہیں پتہ شعر کیسے لکھے جاتے ہیں

Friday, 2 July 2021

دشت کی تشنگی بڑھاتا ہوں میں اداسی کے کام آتا ہوں

 دشت کی تشنگی بڑھاتا ہوں

میں اداسی کے کام آتا ہوں

تُو مجھے عشق کی سہولت دے

میں تِرا ضبط آزماتا ہوں

قید کرتا ہوں حسرتیں دل میں

پھر انہیں خودکشی سکھاتا ہوں

Thursday, 1 July 2021

میں اپنے حصے کا رو چکا ہوں تمہیں پتہ ہے

 میں اپنے حصے کا رو چکا ہوں


تمہیں پتہ ہے؟

تمہارے پیچھے تمام شب جاگنا مِرا مشغلہ رہا ہے

یہ میری آنکھوں کے گرد گہرے سیاہ ہلکے

یہ زرد رنگت اداس آنکھیں

بدن کو دیکھو نحیف جیسے 

Tuesday, 15 June 2021

آنکھ جھکتی ہے نہ وہ رنگ حیا جاتا ہے

 آنکھ جھکتی ہے نہ وہ رنگِ حیا جاتا ہے

یار وہ شخص بڑے زخم لگا جاتا ہے

میں وہ پتھر ہوں کہ وحشت میں اٹھا کر جس کو

بے سبب یوں ہی کہیں پھینک دیا جاتا ہے

زندگی جیسے کوئی تیز ہوا کا جھونکا

یونہی آتا ہے ذرا خاک اُڑا جاتا ہے

Monday, 29 March 2021

یہی کارن جدائی کا بنا تھا

 یہی کارن جدائی کا بنا تھا

مجھے وہ وقت سے پہلے ملا تھا

اسی نے زخم بھی اتنے دئیے تھے

جسے میں جس قدر اچھا لگا تھا

اداسی میرے پیچھے پڑ گئی تھی

مِرا دل تھا یا کوئی غم سرا تھا

Sunday, 6 December 2020

اب ہے سپاہ عشق کا مجھ پر حصار تنگ

 اب ہے سپاہِ عشق کا مجھ پر حصار تنگ

پڑتی دکھائی دیتی ہے راہِ فرار تنگ

اک بے کلی ہے ہونے نا ہونے کے درمیاں

بڑھنے لگا یقیں، تو ہوا اعتبار تنگ

اس وسعتِ خیال کی دولت کو کیا کروں

سوچیں وسیع تر ہیں، مگر اختیار تنگ