کبھی کوزہ، کبھی کاسہ، کبھی ساغر بناتے ہیں
یہ کیسی پیاس کی تسکین کوزہ گر بناتے ہیں
بناتے ہیں سفینے جو سمندر پار کرنے کو
وہی پتوار کے ہمراہ کیوں لنگر بناتے ہیں؟
چلو مانا کے محنت سے مکاں تم ہی بناتے ہو
محبت سے مگر اپنی ہمیں تو گھر بناتے ہیں
کبھی کوزہ، کبھی کاسہ، کبھی ساغر بناتے ہیں
یہ کیسی پیاس کی تسکین کوزہ گر بناتے ہیں
بناتے ہیں سفینے جو سمندر پار کرنے کو
وہی پتوار کے ہمراہ کیوں لنگر بناتے ہیں؟
چلو مانا کے محنت سے مکاں تم ہی بناتے ہو
محبت سے مگر اپنی ہمیں تو گھر بناتے ہیں
مرنے سے گھبرانا کیسا موت تو سب کو آنی ہے
دنیا سے کیا پیار بڑھانا، دنیا کیا ہے، فانی ہے
کچھ آنکھوں میں دھوپ کھلی ہے، کچھ میں رات اندھیری سی
اپنی اپنی خشکی سب کی،۔ اپنا اپنا پانی ہے
کتنے برسوں بعد وہ مجھ سے محفل میں ٹکرایا ہے
ہونٹوں پر مسکان ہے لیکن آنکھوں میں ویرانی ہے
آنگن آنگن، تنہا تنہا، الجھے الجھے لوگ
بھوک، غریبی، بیماری سے پل پل لڑتے لوگ
سب کی اپنی ایک کہانی، اپنے اپنے خواب
بنگلے، چھپر، سڑکوں، گلیوں، جیتے مرتے لوگ
دنیا ساری جنگل بستی، حیواں سے انسان
ریوڑ ریوڑ، جھنڈوں جھنڈوں، سمٹے سمٹے لوگ
جب سے اک شوخ نظر پھیل گئی چہرے پر
آتش برق و شرر پھیل گئی چہرے پر
بات چپکے سے محبت نے میرے کان میں کی
اور خوشیوں کی خبر پھیل گئی چہرے پر
راہ میں اس کی جلائے تھے امیدوں نے چراغ
روشنی کی تھی کدھر پھیل گئی چہرے پر
چاک لکھتا ہے جو تحریر سے ڈر لگتا ہے
میری مٹی کو اب تقدیر سے ڈر لگتا ہے
اب نہیں آتی مِری پلکوں میں کوئی نیند
مجھے خوابوں کی تعبیر سے ڈر لگتا ہے
شام تیری یادوں کی جب سے اتر آئی ہے
ہر سحر کو دن کی تنویر سے ڈر لگتا ہے
جو سچ ہی بیچنا پڑے، تو مول بھاؤ کیا کریں
ہیں عکس عکس آئینے تو رکھ رکھاؤ کیا کریں
ہیں شہر بھر میں شادیاں ہر ایک شخص شادماں
کسی کے سامنے ہم اپنے دل کے گھاؤ کیا کریں
یہ کس کے غم کی آنچ سے سلگ رہا ہے آسماں
بجھے گا کس طرح زمیں کا یہ الاؤ، کیا کریں
کہیں پہ مال و دنیا کی خریدار کی باتیں ہیں
کہیں پہ دن بدن بڑھتی ریاکاری کی باتیں ہیں
بھرے بازار میں سچ کی دکانوں پر ہے سناٹا
تجارت جھوٹ کی چمکی ہے مکاری کی باتیں ہیں
کہیں روزے پہ روزے صرف پانی پی کے کھلتے ہیں
کہیں بس نام پہ روزوں کے افطاری کہ باتیں ہیں
دینے لگا سرور یہ تنہائیوں کا کھیل
بھایا ذرا نہ ہم کو پذیرائیوں کا کھیل
جس رات میں نہ چاند، نہ تارے تھے بام پر
بہلا رہا تھا دل مِرا، پرچھائیوں کا کھیل
سچ پر سفید جھوٹ کا ہونے لگا گماں
کھیلا کچھ ایسا جھوٹ نے سچائیوں کا کھیل
ان کے سب جھوٹ معتبر ٹھہرے
جو میرے سچ تھے بے اثر ٹھہرے
ہم بھی سو جاں نثار کر دیں گے
ان کی ہم پر جو اک نظر ٹھہرے
تنکا تنکا بکھر گیا آخر
کیسے طوفاں میں کوئی گھر ٹھہرے