Showing posts with label حنا رضوی. Show all posts
Showing posts with label حنا رضوی. Show all posts

Sunday, 18 December 2022

کبھی کوزہ کبھی کاسہ کبھی ساغر بناتے ہیں

 کبھی کوزہ، کبھی کاسہ، کبھی ساغر بناتے ہیں

یہ کیسی پیاس کی تسکین کوزہ گر بناتے ہیں

بناتے ہیں سفینے جو سمندر پار کرنے کو

وہی پتوار کے ہمراہ کیوں لنگر بناتے ہیں؟

چلو مانا کے محنت سے مکاں تم ہی بناتے ہو

محبت سے مگر اپنی ہمیں تو گھر بناتے ہیں

Thursday, 31 March 2022

مرنے سے گھبرانا کیسا موت تو سب کو آنی ہے

 مرنے سے گھبرانا کیسا موت تو سب کو آنی ہے

دنیا سے کیا پیار بڑھانا، دنیا کیا ہے، فانی ہے

کچھ آنکھوں میں دھوپ کھلی ہے، کچھ میں رات اندھیری سی

اپنی اپنی خشکی سب کی،۔ اپنا اپنا پانی ہے

کتنے برسوں بعد وہ مجھ سے محفل میں ٹکرایا ہے

ہونٹوں پر مسکان ہے لیکن آنکھوں میں ویرانی ہے

Sunday, 27 February 2022

آنگن آنگن تنہا تنہا الجھے الجھے لوگ

 آنگن آنگن، تنہا تنہا، الجھے الجھے لوگ 

بھوک، غریبی، بیماری سے  پل پل لڑتے لوگ

سب کی اپنی ایک کہانی، اپنے اپنے خواب

بنگلے، چھپر، سڑکوں، گلیوں، جیتے مرتے لوگ

دنیا ساری جنگل بستی، حیواں سے انسان

ریوڑ ریوڑ، جھنڈوں جھنڈوں، سمٹے سمٹے لوگ

Sunday, 30 January 2022

جب سے اک شوخ نظر پھیل گئی چہرے پر

 جب سے اک شوخ نظر پھیل گئی چہرے پر

آتش برق و شرر پھیل گئی چہرے پر

بات چپکے سے محبت نے میرے کان میں کی

اور خوشیوں کی خبر پھیل گئی چہرے پر

راہ میں اس کی جلائے تھے امیدوں نے چراغ

روشنی کی تھی کدھر پھیل گئی چہرے پر

Sunday, 16 January 2022

چاک لکھتا ہے جو تحریر سے ڈر لگتا ہے

 چاک لکھتا ہے جو تحریر سے ڈر لگتا  ہے

میری مٹی کو اب  تقدیر سے ڈر لگتا  ہے

اب نہیں آتی مِری پلکوں میں کوئی نیند

مجھے خوابوں کی تعبیر سے ڈر لگتا  ہے

شام تیری یادوں کی جب سے اتر آئی ہے

ہر سحر کو دن کی تنویر سے ڈر لگتا  ہے

Sunday, 26 December 2021

جو سچ ہی بیچنا پڑے تو مول بھاؤ کیا کریں

 جو سچ ہی بیچنا پڑے، تو مول بھاؤ کیا کریں

ہیں عکس عکس آئینے تو رکھ رکھاؤ کیا کریں

ہیں شہر بھر میں شادیاں ہر ایک شخص شادماں

کسی کے سامنے ہم اپنے دل کے گھاؤ کیا کریں

یہ کس کے غم کی آنچ سے سلگ رہا ہے آسماں

بجھے گا کس طرح زمیں کا یہ الاؤ، کیا کریں

Saturday, 25 December 2021

کہیں پہ مال و دنیا کی خریدار کی باتیں ہیں

 کہیں پہ مال و دنیا کی خریدار کی باتیں ہیں

کہیں پہ دن بدن بڑھتی ریاکاری کی باتیں ہیں

بھرے بازار میں سچ کی دکانوں پر ہے سناٹا

تجارت جھوٹ کی چمکی ہے مکاری کی باتیں ہیں

کہیں روزے پہ روزے صرف پانی پی کے کھلتے ہیں

کہیں بس نام پہ روزوں کے افطاری کہ باتیں ہیں

Thursday, 25 November 2021

دینے لگا سرور یہ تنہائیوں کا کھیل

 دینے لگا سرور یہ تنہائیوں کا کھیل

بھایا ذرا نہ ہم کو پذیرائیوں کا کھیل

جس رات میں نہ چاند، نہ تارے تھے بام پر

بہلا رہا تھا دل مِرا، پرچھائیوں کا کھیل

سچ پر سفید جھوٹ کا ہونے لگا گماں

کھیلا کچھ ایسا جھوٹ نے سچائیوں کا کھیل

Sunday, 6 June 2021

ان کے سب جھوٹ معتبر ٹھہرے

 ان کے سب جھوٹ معتبر ٹھہرے

جو میرے سچ تھے بے اثر ٹھہرے

ہم بھی سو جاں نثار کر دیں گے

ان کی ہم پر جو اک نظر ٹھہرے

تنکا تنکا بکھر گیا آخر

کیسے طوفاں میں کوئی گھر ٹھہرے