نہ کام فِکر سے نِکلا نہ چل سکی تدبیر
کسی طرح سے نہ بدلی پِھری ہوئی تقدیر
ضمیرِ دہر سے اندیشۂ خِزاں نہ گیا
بہار میں بھی زمانہ ہے درد کی تصویر
تعینات میں اُلجھی ہوئی ہے فِکرِ حیات
مِرے زوال کی تمہید ہے مِری تعمیر
نہ کام فِکر سے نِکلا نہ چل سکی تدبیر
کسی طرح سے نہ بدلی پِھری ہوئی تقدیر
ضمیرِ دہر سے اندیشۂ خِزاں نہ گیا
بہار میں بھی زمانہ ہے درد کی تصویر
تعینات میں اُلجھی ہوئی ہے فِکرِ حیات
مِرے زوال کی تمہید ہے مِری تعمیر
مٹا کر ہی چھوڑے گی یادِ حبیب
یہ کانٹا کھٹکتا ہے دل کے قریب
بہت انقلابات آتے رہے
محبت کا لیکن نہ بدلا نصیب
فقط اک محبت ہے آگاہِ راز
نہ وہ دُور ہیں اور نہ مجھ سے قریب
میں نے اب سمجھا ہے رازِ کائنات
کر رہا ہوں غم سے تعمیرِ حیات
کس توقع پر بناؤں آشیاں
زندگی ہے اور برقِ حادثات
منزلِ غم اس قدر آساں نہ تھی
رہ گئے منہ دیکھ کر صبر و ثبات
وہی میری نا مرادی، وہی گردش زمانہ
مِری زندگی تصور مِری عِشرتیں فسانہ
نہ حضوریوں کی خواہش نہ وصال کی تمنا
مجھے اب بھی ہے تعارف وہی ان سے غائبانہ
جو تجھے خیال ہوتا یہ مِرا نہ حال ہوتا
نہ تِری نگاہ بدلی، نہ بدل سکا زمانہ
ہوش اس پر کسی کا بس نہ چلا
وقت جب آ گیا تو پھر نہ ٹلا
سوز باطن کے ہیں یہ سب جلوے
آگ روشن ہے لے چراغ جلا
نہ چلا دل پہ زندگی کا فریب
سخت لوہا اس آنچ سے نہ گلا
مجھے یاد ہیں وہ دن جو تِری بزم میں گزارے
وہ جھکی جھکی نگاہیں وہ دبے دبے اشارے
یہ تِرا سکوت رنگیں،۔ یہ ادائے بے نیازی
کہیں بجھ کے رہ نہ جائیں مِری روح کے شرارے
کبھی شوق زندگی تھا کبھی لطف سرخوشی تھا
مگر اب تو جی رہا ہوں تِری یاد کے سہارے