Showing posts with label ہوش بلگرامی. Show all posts
Showing posts with label ہوش بلگرامی. Show all posts

Friday, 23 October 2026

نہ کام فکر سے نکلا نہ چل سکی تدبیر

 نہ کام فِکر سے نِکلا نہ چل سکی تدبیر

کسی طرح سے نہ بدلی پِھری ہوئی تقدیر

ضمیرِ دہر سے اندیشۂ خِزاں نہ گیا

بہار میں بھی زمانہ ہے درد کی تصویر

تعینات میں اُلجھی ہوئی ہے فِکرِ حیات

مِرے زوال کی تمہید ہے مِری تعمیر

Saturday, 25 July 2026

مٹا کر ہی چھوڑے گی یاد حبیب

 مٹا کر ہی چھوڑے گی یادِ حبیب

یہ کانٹا کھٹکتا ہے دل کے قریب

بہت انقلابات آتے رہے

محبت کا لیکن نہ بدلا نصیب

فقط اک محبت ہے آگاہِ راز

نہ وہ دُور ہیں اور نہ مجھ سے قریب

Monday, 2 March 2026

کر رہا ہوں غم سے تعمیر حیات

 میں نے اب سمجھا ہے رازِ کائنات

کر رہا ہوں غم سے تعمیرِ حیات

کس توقع پر بناؤں آشیاں

زندگی ہے اور برقِ حادثات

منزلِ غم اس قدر آساں نہ تھی

رہ گئے منہ دیکھ کر صبر و ثبات

Tuesday, 30 September 2025

وہی میری نا مرادی وہی گردش زمانہ

 وہی میری نا مرادی، وہی گردش زمانہ

مِری زندگی تصور مِری عِشرتیں فسانہ

نہ حضوریوں کی خواہش نہ وصال کی تمنا

مجھے اب بھی ہے تعارف وہی ان سے غائبانہ

جو تجھے خیال ہوتا یہ مِرا نہ حال ہوتا

نہ تِری نگاہ بدلی، نہ بدل سکا زمانہ

Monday, 22 September 2025

ہوش اس پر کسی کا بس نہ چلا

ہوش اس پر کسی کا بس نہ چلا

وقت جب آ گیا تو پھر نہ ٹلا

سوز باطن کے ہیں یہ سب جلوے

آگ روشن ہے لے چراغ جلا

نہ چلا دل پہ زندگی کا فریب

سخت لوہا اس آنچ سے نہ گلا

Thursday, 11 September 2025

مجھے یاد ہیں وہ دن جو تری بزم میں گزارے

 مجھے یاد ہیں وہ دن جو تِری بزم میں گزارے

وہ جھکی جھکی نگاہیں وہ دبے دبے اشارے

یہ تِرا سکوت رنگیں،۔ یہ ادائے بے نیازی

کہیں بجھ کے رہ نہ جائیں مِری روح کے شرارے

کبھی شوق زندگی تھا کبھی لطف سرخوشی تھا

مگر اب تو جی رہا ہوں تِری یاد کے سہارے