بیل کو نم مل جائے تو وہ بڑھتی ہے
بڑھتی ہے تو پاس کے پیڑ پہ چڑھتی ہے
پہلے پہل یہ غم ہلکان تو کرتا ہے
رفتہ رفتہ اس کی عادت پڑتی ہے
اہلِ محبت کوہِ انا سر کرتے ہیں
اہلِ ہوس کی راہ میں سانس اکھڑتی ہے
بیل کو نم مل جائے تو وہ بڑھتی ہے
بڑھتی ہے تو پاس کے پیڑ پہ چڑھتی ہے
پہلے پہل یہ غم ہلکان تو کرتا ہے
رفتہ رفتہ اس کی عادت پڑتی ہے
اہلِ محبت کوہِ انا سر کرتے ہیں
اہلِ ہوس کی راہ میں سانس اکھڑتی ہے
بادہ خانے کدھر چلے گئے ہیں
وہ زمانے کدھر چلے گئے ہیں
وہ دریچوں سے جھانکنے والے
لوگ جانے کدھر چلے گئے ہیں
شورِ طفلاں نہیں ہے گلیوں میں
سب دوانے کدھر چلے گئے ہیں
اے دوست دل حیات سے محوِ نبرد ہے
مت یہ گمان کر کہ مِرا خون سرد ہے
میں ہوں تلاشِ منزلِ ہستی کو گامزن
چہرے پہ میرے دیکھ لے صدیوں کی گرد ہے
اس کو بھی میری حالتِ دل کی ہے کچھ خبر
معمول سے زیادہ خزاں اب کے زرد ہے
کنارِ آب کہیں میرے انتظار میں ہے
وہ ماہتاب کہیں میرے انتظار میں ہے
بتا رہی ہے یہ ترتیبِ حادثات مجھے
نیا عذاب کہیں میرے انتظار میں ہے
ابھی تو پاؤں تلے جلتی ریت ہے لیکن
کوئی سحاب کہیں میرے انتظار میں ہے
کیوں یہ بے کل اُداس رہتا ہے
دل کہ ہر پل اداس رہتا ہے
سر سے تیرے سرک تو جاتا ہے
پھر وہ آنچل اداس رہتا ہے
تیری آنکھوں میں رہتے رہتے بھی
تیرا کاجل اداس رہتا ہے
بجا ہے وجہِ الم ظلمتوں کا راج بھی ہے
پر اصل مسئلہ یہ منجمد سماج بھی ہے
ہجومِ سنگ بدستاں بھی ٹھیک کہتا ہے
سوائے سنگ جنوں کا کوئی علاج بھی ہے
مِرا سخن تو ہے میرے ضمیر کی آواز
یہ میرا درد بھی ہے میرا احتجاج بھی ہے
ایک تو نیند کا امکان سرہانے پڑا ہے
اور اک میر کا دیوان سرہانے پڑا ہے
کچھ کتابیں ہیں، دوائیں ہیں مرا چشمہ ہے
دیکھ لو سب سر و سامان سرہانے پڑا ہے
اک ملاقات کی امید بھی رکھی ہوئی ہے
اور اک دید کا ارمان سرہانے پڑا ہے
تپش جو نارِ جہنم سی گھاؤ گھاؤ میں ہے
الاؤ دل میں ہے میرے کہ دل الاؤ میں ہے
غمِ حیات کوئی لمحہ بھر کا غم تو نہیں
یہ رودِ درد ہے اور مستقل بہاؤ میں ہے
خود اپنی خوئے وفا سدِ رہ بنی ہوئی ہے
وگرنہ دل تو نئی منزلوں کے چاؤ میں ہے