Showing posts with label طاہر گل. Show all posts
Showing posts with label طاہر گل. Show all posts

Monday, 13 February 2023

بیل کو نم مل جائے تو وہ بڑھتی ہے

بیل کو نم مل جائے تو وہ بڑھتی ہے

بڑھتی ہے تو پاس کے پیڑ پہ چڑھتی ہے

پہلے پہل یہ غم ہلکان تو کرتا ہے

رفتہ رفتہ اس کی عادت پڑتی ہے

اہلِ محبت کوہِ انا سر کرتے ہیں

اہلِ ہوس کی راہ میں سانس اکھڑتی ہے

Saturday, 19 February 2022

بادہ خانے کدھر چلے گئے ہیں

 بادہ خانے کدھر چلے گئے ہیں

وہ زمانے کدھر چلے گئے ہیں

وہ دریچوں سے جھانکنے والے

لوگ جانے کدھر چلے گئے ہیں

شورِ طفلاں نہیں ہے گلیوں میں

سب دوانے کدھر چلے گئے ہیں

Sunday, 29 August 2021

اے دوست دل حیات سے محو نبرد ہے

 اے دوست دل حیات سے محوِ نبرد ہے

مت یہ گمان کر کہ مِرا خون سرد ہے

میں ہوں تلاشِ منزلِ ہستی کو گامزن

چہرے پہ میرے دیکھ لے صدیوں کی گرد ہے

اس کو بھی میری حالتِ دل کی ہے کچھ خبر

معمول سے زیادہ خزاں اب کے زرد ہے

Monday, 26 April 2021

کنار آب کہیں میرے انتظار میں ہے

 کنارِ آب کہیں میرے انتظار میں ہے

وہ ماہتاب کہیں میرے انتظار میں ہے

بتا رہی ہے یہ ترتیبِ حادثات مجھے

نیا عذاب کہیں میرے انتظار میں ہے

ابھی تو پاؤں تلے جلتی ریت ہے لیکن

کوئی سحاب کہیں میرے انتظار میں ہے

Wednesday, 21 April 2021

کیوں یہ بے کل اداس رہتا ہے

 کیوں یہ بے کل اُداس رہتا ہے 

دل کہ ہر پل اداس رہتا ہے

سر سے تیرے سرک تو جاتا ہے

پھر وہ آنچل اداس رہتا ہے 

تیری آنکھوں میں رہتے رہتے بھی 

تیرا کاجل اداس رہتا ہے 

Tuesday, 20 April 2021

بجا ہے وجہ الم ظلمتوں کا راج بھی ہے

 بجا ہے وجہِ الم ظلمتوں کا راج بھی ہے

پر اصل مسئلہ یہ منجمد سماج بھی ہے

ہجومِ سنگ بدستاں بھی ٹھیک کہتا ہے

سوائے سنگ جنوں کا کوئی علاج بھی ہے

مِرا سخن تو ہے میرے ضمیر کی آواز

یہ میرا درد بھی ہے میرا احتجاج بھی ہے

Saturday, 12 December 2020

ایک تو نیند کا امکان سرہانے پڑا ہے

 ایک تو نیند کا امکان سرہانے پڑا ہے

اور اک میر کا دیوان سرہانے پڑا ہے

کچھ کتابیں ہیں، دوائیں ہیں مرا چشمہ ہے

دیکھ لو سب سر و سامان سرہانے پڑا ہے

اک ملاقات کی امید بھی رکھی ہوئی ہے

اور اک دید کا ارمان سرہانے پڑا ہے

Tuesday, 1 December 2020

تپش جو نار جہنم سی گھاؤ گھاؤ میں ہے

 تپش جو نارِ جہنم سی گھاؤ گھاؤ میں ہے

الاؤ دل میں ہے میرے کہ دل الاؤ میں ہے

غمِ حیات کوئی لمحہ بھر کا غم تو نہیں

یہ رودِ درد ہے اور مستقل بہاؤ میں ہے

خود اپنی خوئے وفا سدِ رہ بنی ہوئی ہے

وگرنہ دل تو نئی منزلوں کے چاؤ میں ہے