ایک تو نیند کا امکان سرہانے پڑا ہے
اور اک میر کا دیوان سرہانے پڑا ہے
کچھ کتابیں ہیں، دوائیں ہیں مرا چشمہ ہے
دیکھ لو سب سر و سامان سرہانے پڑا ہے
اک ملاقات کی امید بھی رکھی ہوئی ہے
اور اک دید کا ارمان سرہانے پڑا ہے
ایک مدت سے سبھی کل پہ اٹھا رکھا ہے
کام ہر مشکل و آسان سرہانے پڑا ہے
پائنتی پر ہی کہیں فکر پڑی ہے میری
اور مرا فن مرا وجدان سرہانے پڑا ہے
طاہر گل
No comments:
Post a Comment