لیکن او کانئر
لیکن او گیدی
تیرے اندر کی آنکھ مر چکی ہے
تیرے سینے میں
دل دانگی ہے
تم اس دانگی کی کالک
لیکن او کانئر
لیکن او گیدی
تیرے اندر کی آنکھ مر چکی ہے
تیرے سینے میں
دل دانگی ہے
تم اس دانگی کی کالک
بد نصیب
آج اس کے جنازے کے لیے
اتنے سارے کاندھے ہیں
دکھ تو صرف یہ ہے
کہ زندگی میں جب
اس نے رونا چاہا تھا
پانچویں دیوار
ہر کمرے کی
ہوتی ہیں دیواریں چار
لیکن اس کمرے کی
دیواریں تھیں پانچ
چار پتھر کی، پانچویں
پاگل ہوا بھی ساتھ میں ہے
دن کی کس کو تلاش رات میں ہے
چاند کی لالٹین ہاتھ میں ہے
کہیں باہر سے وہ نہیں آتی
موت جو کچھ بھی ہے حیات میں ہے
تجھ سے مل کر مجھے لگا ایسا
جيس تائيں عاشقی ٿيندی رهی
تيس تائيں شاعری ٿيندی رهی
جب تک محبت جاری رہے گی
جب تک شاعری جاری رہے گی
اے پری تُو آخر کب تک پڑھے گی
اس صفحہ پر مسلسل روشنی رہے گی
صبح نو کے لیے
برہنہ سر لیے گلیوں میں پاگلوں کی طرح
شکستہ دل لیے ہاتھوں میں
اشک آنکھوں میں
لبوں پر محشرِ خاموش، زخم سینے پر
تمام شہر کی دیوار و در سے ٹکراتی
کبھی یوں تھا
کبھی یوں تھا ہمارے تھے زمانے
گگن پر چاند، سورج اور تارے تھے ہمارے
زمیں پر لہلہاتے کھیت سارے تھے ہمارے
تبسّم خیر نظارے تھے اپنے
ترنم ریز جھرنے تھے ہمارے
مختصر نظم
زندگی
جانے کہاں
چاہے بنا
لا کر پٹختی ہے ہميں
امداد حسینی