Showing posts with label امداد حسینی. Show all posts
Showing posts with label امداد حسینی. Show all posts

Wednesday, 26 April 2023

تیرے اندر کی آنکھ مر چکی ہے

 لیکن او کانئر

لیکن او گیدی

تیرے اندر کی آنکھ مر چکی ہے

تیرے سینے میں

دل دانگی ہے

تم اس دانگی کی کالک

Friday, 14 April 2023

بد نصیب آج اس کے جنازے کے لیے

بد نصیب


آج اس کے جنازے کے لیے

اتنے سارے کاندھے ہیں

دکھ تو صرف یہ ہے

کہ زندگی میں جب

اس نے رونا چاہا تھا

Sunday, 25 December 2022

پانچویں دیوار ہر کمرے کی ہوتی ہیں دیواریں چار

پانچویں دیوار


ہر کمرے کی

ہوتی ہیں دیواریں چار

لیکن اس کمرے کی

دیواریں تھیں پانچ

چار پتھر کی، پانچویں

Sunday, 9 October 2022

پاگل ہوا بھی ساتھ میں ہے

 پاگل ہوا بھی ساتھ میں ہے


دن کی کس کو تلاش رات میں ہے

چاند کی لالٹین ہاتھ میں ہے

کہیں باہر سے وہ نہیں آتی

موت جو کچھ بھی ہے حیات میں ہے

تجھ سے مل کر مجھے لگا ایسا

Thursday, 6 October 2022

جب تک محبت جاری رہے گی

 جيس تائيں عاشقی ٿيندی رهی

تيس تائيں شاعری ٿيندی رهی

جب تک محبت جاری رہے گی

جب تک شاعری جاری رہے گی

اے پری تُو آخر کب تک پڑھے گی

اس صفحہ پر مسلسل روشنی رہے گی 

Wednesday, 5 October 2022

جواں رات کی روح بھٹک رہی ہے مرے ساتھ

 صبح نو کے لیے


برہنہ سر لیے گلیوں میں پاگلوں کی طرح

شکستہ دل لیے ہاتھوں میں

اشک آنکھوں میں

لبوں پر محشرِ خاموش، زخم سینے پر

تمام شہر کی دیوار و در سے ٹکراتی

Monday, 13 June 2022

کبھی یوں تھا ہمارے تھے زمانے

کبھی یوں تھا

کبھی یوں تھا ہمارے تھے زمانے

گگن پر چاند، سورج اور تارے تھے ہمارے

زمیں پر لہلہاتے کھیت سارے تھے ہمارے

تبسّم خیر نظارے تھے اپنے

ترنم ریز جھرنے تھے ہمارے

Tuesday, 15 March 2022

زندگی جانے کہاں لا کر پٹختی ہے ہميں

مختصر نظم


 زندگی

جانے کہاں 

چاہے بنا 

لا کر پٹختی ہے ہميں


امداد حسینی