Showing posts with label نوشیروان عادل. Show all posts
Showing posts with label نوشیروان عادل. Show all posts

Sunday, 29 October 2023

دعا کو ہاتھ اٹھائے تو آپ یاد آئے

 دُعا کو ہاتھ اٹھائے تو آپ یاد آئے

جو ہم نے اشک بہائے تو آپ یاد آئے

بہار لوٹ کے آئی تو آنکھ بھر آئی

صبا نے پُھول کھلائے تو آپ یاد آئے

کسی جگہ بھی کہیں بھی جو راہِ ہستی میں

پڑے ہیں شام کے سائے تو آپ یاد آئے

Tuesday, 17 October 2023

گلوں سے کرتا ہے جب گفتگو نہیں تکتا

 گُلوں سے کرتا ہے جب گُفتگو نہیں تکتا

کسی طرف بھی مِرا خوش گلُو نہیں تکتا

وہ شخص دیکھیے مطلب پرست ہے کتنا

جو پُھول دیکھتا ہے رنگ و بُو نہیں تکتا

نہ جانے کیا تِری آنکھوں میں ہے سمایا ہوا

جو ہم تکاتے ہیں تجھ کو وہ تُو نہیں تکتا

Saturday, 23 September 2023

پھول جو تیرے لیے ہم نے دھرے ہیں اب تک

 پھول جو تیرے لیے ہم نے دھرے ہیں اب تک

سوکھ جانے پہ بھی خوشبو سے بھرے ہیں اب تک

آتشیں آنکھوں سے حیرت کا دھواں اٹھتا ہے

جڑ توانا ہے، مِرے پات ہرے ہیں اب تک

جھیل سی آنکھوں میں کھل پایا نہیں کوئی کنول

رونقِ دید سے ہم لوگ پرے ہیں اب تک

Friday, 15 September 2023

کہ رہا ہوں میں تجھے شام و سحر باندھ کے رکھ

 کہ رہا ہوں میں تجھے شام و سحر باندھ کے رکھ

تو مسافر ہے یہاں رختِ سفر باندھ کے رکھ

کاٹھ سے تُو نے بنایا ہے اگر پانی پر

موج کا کوئی بھروسہ نہیں گھر باندھ کے رکھ

قابلِ دید ہو جو کچھ تو اسے دیکھ مگر

حدِ آداب میں تو اپنی نظر باندھ کے رکھ

Sunday, 20 August 2023

پھول جو تیرے لیے ہم نے دھرے ہیں اب تک

 پھول جو تیرے لیے ہم نے دھرے ہیں اب تک

سوکھ جانے پہ بھی خوشبو سے بھرے ہیں اب تک

آتشیں آنکھوں سے حیرت کا دھواں اٹھتا ہے

جڑ توانا ہے، مِرے پات ہرے ہیں اب تک

جھیل سی آنکھوں میں کِھل پایا نہیں کوئی کنول

رونقِ دِید سے ہم لوگ پرے ہیں اب تک

Monday, 7 August 2023

مجھ سے پوشیدہ نہیں ہے کوئی گلزار نہ بن

مجھ سے پوشیدہ نہیں ہے کوئی گلزار نہ بن

چھوڑ دے راہ مِری، راہ میں دیوار نہ بن

یہ جو دنیا ہے تِرے ہاتھ نہیں آنے کی

کاغذی پھول کی خوشبو کا طلبگار نہ بن

مار ڈالے نہ یہ احساسِ رقابت مجھ کو

تُو مِرا بن کہ نہ بن، اس کا طرفدار نہ بن

Sunday, 30 July 2023

دیکھ سفاک مرے حال پہ تنقید نہ کر

 دیکھ سفاک مِرے حال پہ تنقید نہ کر

مت اڑا خاک، مِرے حال پہ تنقید نہ کر

کوئی منظر میں بنالوں گا انوکھا کل تک

چشمِ نمناک! مِرے حال پہ تنقید نہ کر

کُوزہ گر ہے تو کوئی اپنا کھلونا بھی بنا

چل اُٹھا خاک، مِرے حال پہ تنقید نہ کر

نعت کہنے کا سلیقہ تو عطا کر ایسا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


نعت کہنے کا سلیقہ تو عطا کر ایسا

خوشبوئیں رقص کریں ہو بھی گلِ تر ایسا

ہو چمک ایسی کہ چمکیں یہ زمیں اور فلک

نعت گوئی میں ہو لہجہ مِرا اختر ایسا

آپ کیسے ہیں سمجھ لوں تو میں کیسا ہو جاؤں

سوچتا رہتا ہوں تنہائی میں اکثر ایسا

Tuesday, 18 July 2023

جو بات بنتی نہیں ہے وہی بنانی ہے

 جو بات بنتی نہیں ہے وہی بنانی ہے

تِرے بغیر ہمیں زندگی بنانی ہے

قیام کرنا ہے ہم نے تمہارے دل میں بھی

تمہارے دل میں بھی اک جھونپڑی بنانی ہے

بنانی اس طرح ہے کوہ قاف کی دنیا

پہاڑ پہلے بنا کر پری بنانی ہے

Monday, 17 July 2023

کسی کی آنکھوں میں اشک آیا تو دل دکھے گا

 کسی کی آنکھوں میں اشک آیا تو دل دُکھے گا

کسی کا بھی تُو نے دل دُکھایا تو دل دکھے گا

بُلا رہا ہے جسے تُو اتنی محبتوں سے

تِرے بُلاوے پہ وہ نہ آیا تو دل دکھے گا

تمہیں بتایا تھا وصل رُت میں جو راز ہم نے

کسی کو تم نے اگر بتایا تو دل دکھے گا

Sunday, 16 July 2023

چراغوں کو بجھاؤ جل نہ جائے

 چراغوں کو بجھاؤ، جل نہ جائے

مِرا گھر، اے ہواؤ! جل نہ جائے

دُھواں سا اُٹھ رہا ہے پانیوں سے

مِری کاغذ کی ناؤ، جل نہ جائے

شجر شعلے اُگلنے پر تُلا ہے

پرندے کو اُڑاؤ، جل نہ جائے

Friday, 13 August 2021

مجھ کو احساس دلانے کی ضرورت کیا ہے

مجھ کو احساس دلانے کی ضرورت کیا ہے

میں سمجھتا ہوں زمانے کی ضرورت کیا ہے

میں نہ کہتا تھا مجھے چھوڑ کے پچھتاؤ گے

اب مِرا سوگ منانے کی ضرورت کیا کے

خواب آنکھوں میں سجانے کی ضرورت کیا تھی

اب تجھے اشک بہانے کی ضرورت کیا ہے