دُعا کو ہاتھ اٹھائے تو آپ یاد آئے
جو ہم نے اشک بہائے تو آپ یاد آئے
بہار لوٹ کے آئی تو آنکھ بھر آئی
صبا نے پُھول کھلائے تو آپ یاد آئے
کسی جگہ بھی کہیں بھی جو راہِ ہستی میں
پڑے ہیں شام کے سائے تو آپ یاد آئے
دُعا کو ہاتھ اٹھائے تو آپ یاد آئے
جو ہم نے اشک بہائے تو آپ یاد آئے
بہار لوٹ کے آئی تو آنکھ بھر آئی
صبا نے پُھول کھلائے تو آپ یاد آئے
کسی جگہ بھی کہیں بھی جو راہِ ہستی میں
پڑے ہیں شام کے سائے تو آپ یاد آئے
گُلوں سے کرتا ہے جب گُفتگو نہیں تکتا
کسی طرف بھی مِرا خوش گلُو نہیں تکتا
وہ شخص دیکھیے مطلب پرست ہے کتنا
جو پُھول دیکھتا ہے رنگ و بُو نہیں تکتا
نہ جانے کیا تِری آنکھوں میں ہے سمایا ہوا
جو ہم تکاتے ہیں تجھ کو وہ تُو نہیں تکتا
پھول جو تیرے لیے ہم نے دھرے ہیں اب تک
سوکھ جانے پہ بھی خوشبو سے بھرے ہیں اب تک
آتشیں آنکھوں سے حیرت کا دھواں اٹھتا ہے
جڑ توانا ہے، مِرے پات ہرے ہیں اب تک
جھیل سی آنکھوں میں کھل پایا نہیں کوئی کنول
رونقِ دید سے ہم لوگ پرے ہیں اب تک
کہ رہا ہوں میں تجھے شام و سحر باندھ کے رکھ
تو مسافر ہے یہاں رختِ سفر باندھ کے رکھ
کاٹھ سے تُو نے بنایا ہے اگر پانی پر
موج کا کوئی بھروسہ نہیں گھر باندھ کے رکھ
قابلِ دید ہو جو کچھ تو اسے دیکھ مگر
حدِ آداب میں تو اپنی نظر باندھ کے رکھ
پھول جو تیرے لیے ہم نے دھرے ہیں اب تک
سوکھ جانے پہ بھی خوشبو سے بھرے ہیں اب تک
آتشیں آنکھوں سے حیرت کا دھواں اٹھتا ہے
جڑ توانا ہے، مِرے پات ہرے ہیں اب تک
جھیل سی آنکھوں میں کِھل پایا نہیں کوئی کنول
رونقِ دِید سے ہم لوگ پرے ہیں اب تک
مجھ سے پوشیدہ نہیں ہے کوئی گلزار نہ بن
چھوڑ دے راہ مِری، راہ میں دیوار نہ بن
یہ جو دنیا ہے تِرے ہاتھ نہیں آنے کی
کاغذی پھول کی خوشبو کا طلبگار نہ بن
مار ڈالے نہ یہ احساسِ رقابت مجھ کو
تُو مِرا بن کہ نہ بن، اس کا طرفدار نہ بن
دیکھ سفاک مِرے حال پہ تنقید نہ کر
مت اڑا خاک، مِرے حال پہ تنقید نہ کر
کوئی منظر میں بنالوں گا انوکھا کل تک
چشمِ نمناک! مِرے حال پہ تنقید نہ کر
کُوزہ گر ہے تو کوئی اپنا کھلونا بھی بنا
چل اُٹھا خاک، مِرے حال پہ تنقید نہ کر
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نعت کہنے کا سلیقہ تو عطا کر ایسا
خوشبوئیں رقص کریں ہو بھی گلِ تر ایسا
ہو چمک ایسی کہ چمکیں یہ زمیں اور فلک
نعت گوئی میں ہو لہجہ مِرا اختر ایسا
آپ کیسے ہیں سمجھ لوں تو میں کیسا ہو جاؤں
سوچتا رہتا ہوں تنہائی میں اکثر ایسا
جو بات بنتی نہیں ہے وہی بنانی ہے
تِرے بغیر ہمیں زندگی بنانی ہے
قیام کرنا ہے ہم نے تمہارے دل میں بھی
تمہارے دل میں بھی اک جھونپڑی بنانی ہے
بنانی اس طرح ہے کوہ قاف کی دنیا
پہاڑ پہلے بنا کر پری بنانی ہے
کسی کی آنکھوں میں اشک آیا تو دل دُکھے گا
کسی کا بھی تُو نے دل دُکھایا تو دل دکھے گا
بُلا رہا ہے جسے تُو اتنی محبتوں سے
تِرے بُلاوے پہ وہ نہ آیا تو دل دکھے گا
تمہیں بتایا تھا وصل رُت میں جو راز ہم نے
کسی کو تم نے اگر بتایا تو دل دکھے گا
چراغوں کو بجھاؤ، جل نہ جائے
مِرا گھر، اے ہواؤ! جل نہ جائے
دُھواں سا اُٹھ رہا ہے پانیوں سے
مِری کاغذ کی ناؤ، جل نہ جائے
شجر شعلے اُگلنے پر تُلا ہے
پرندے کو اُڑاؤ، جل نہ جائے
مجھ کو احساس دلانے کی ضرورت کیا ہے
میں سمجھتا ہوں زمانے کی ضرورت کیا ہے
میں نہ کہتا تھا مجھے چھوڑ کے پچھتاؤ گے
اب مِرا سوگ منانے کی ضرورت کیا کے
خواب آنکھوں میں سجانے کی ضرورت کیا تھی
اب تجھے اشک بہانے کی ضرورت کیا ہے