کیوں خطا ہیں تِرے اوسان مِری جان بتا
ہو نہ ہو تو ہے پریشان مری جان بتا
دیکھ چہرہ یہ تِرا کھا بھی رہا ہے چُغلی
یوں نہ بن بے وجہ انجان مری جان بتا
سن چکا بس میں بہت اور نہیں سننی ہے
کچھ نہیں ہے کی یہ گردان مری جان بتا
کیوں خطا ہیں تِرے اوسان مِری جان بتا
ہو نہ ہو تو ہے پریشان مری جان بتا
دیکھ چہرہ یہ تِرا کھا بھی رہا ہے چُغلی
یوں نہ بن بے وجہ انجان مری جان بتا
سن چکا بس میں بہت اور نہیں سننی ہے
کچھ نہیں ہے کی یہ گردان مری جان بتا
زباں نہ ہوتی قلم نہ ہوتے
زمیں نہ ہوتی قدم نہ ہوتے
کوئی جو تھوڑا لحاظ کرتا
کسی پہ اتنے ستم نہ ہوتے
ہمارا چہرہ بھی کھل کھلاتا
جو دل میں رنج و الم نہ ہوتے
لوگ پرائے ہو جاتے ہیں
نہیں پلٹتے جو جاتے ہیں
کام نہیں تو سوچا میں نے
گلی سے اس کی ہو آتے ہیں
اس کا چہرہ دیکھنے والے
بس آنکھوں میں کھو جاتے ہیں