Showing posts with label احسان سبز. Show all posts
Showing posts with label احسان سبز. Show all posts

Sunday, 4 May 2025

کیوں خطا ہیں ترے اوسان مری جان بتا

 کیوں خطا ہیں تِرے اوسان مِری جان بتا

ہو نہ ہو تو ہے پریشان مری جان بتا

دیکھ چہرہ یہ تِرا کھا بھی رہا ہے چُغلی

یوں نہ بن بے وجہ انجان مری جان بتا

سن چکا بس میں بہت اور نہیں سننی ہے

کچھ نہیں ہے کی یہ گردان مری جان بتا

Wednesday, 2 June 2021

زباں نہ ہوتی قلم نہ ہوتے

زباں نہ ہوتی قلم نہ ہوتے

زمیں نہ ہوتی قدم نہ ہوتے

کوئی جو تھوڑا لحاظ کرتا

کسی پہ اتنے ستم نہ ہوتے

ہمارا چہرہ بھی کھل کھلاتا

جو دل میں رنج و الم نہ ہوتے

Wednesday, 23 September 2020

لوگ پرائے ہو جاتے ہیں

لوگ پرائے ہو جاتے ہیں

نہیں پلٹتے جو جاتے ہیں

کام نہیں تو سوچا میں نے

گلی سے اس کی ہو آتے ہیں

اس کا چہرہ دیکھنے والے

بس آنکھوں میں کھو جاتے ہیں