Showing posts with label احمد جہانگیر. Show all posts
Showing posts with label احمد جہانگیر. Show all posts

Wednesday, 17 July 2024

تنویر پر طمانچے پھولوں پہ تازیانہ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


تنویر پر طمانچے، پھولوں پہ تازیانہ

عفت مآب کنبہ، عالی نسب گھرانہ

تسبیح میں ستارے، آفاق کا مصلّی

تطہیر کی قناتیں، رحمت کا شامیانہ

آیات کا تسلسل، اسرار پر تفکّر

تمجید کا ترنّم، توحید کا ترانہ

Monday, 27 May 2024

فارسی کے کھجوروں بھرے باغ کی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


فارسی کے کھجوروں بھرے باغ کی، خاک ماتھے پہ ملتا شگُن کے لیے

میں بھی بِکتا ہوا جا بہ جا ایک دن، جا پہنچتا مدینے میں اُنؐ کے لیے

استعاروں کی رنگین برسات میں، ان کے در سے نگینوں کی خیرات لی

اے زمانے! یہ انؐ کی عطا ہے عطا، یہ جواہر کہاں دٙیکھ سُن کے لیے

سبز ڈفلی پہ پڑتی ہوئی تھاپ نے، خیر مقدم کیا میرے سُلطانؐ کا

لحن گونجا فرشتوں کی آواز کا، تار چھیڑا گیا ایک دُھن کے لیے

Wednesday, 6 December 2023

حمد الہ کی گونج ہے اعلان نعت ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


حمدِ الہ کی گونج ہے، اعلانِ نعت ہے

دنیا خدا کے فضل سے ایوانِ نعت ہے

مولا، عجم کے گُنگ بیاباں میں جا بہ جا

مِدحت کے اِصفہان ہیں، ملتانِ نعت ہے

روشن ہے بابِ شہرِ تمدّن پہ اب چراغ

حدِّ ادب، کہ گوشۂ بُستانِ نعت ہے

Tuesday, 7 November 2023

میں نے عمرے پہ جاتے ہووں سے کہا ایک دربار

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


میں نے عمرے پہ جاتے ہووں سے کہا ایک دربار

حاضری ہو تو کہنا کہ؛ مرتا ہوا، کوئی بیمار ہے

شاہزادیؑ کی اُجڑی ہوئی قبر پر، کہہ کے میرا سلام

عرض کرنا کہ؛ بابا کے مدّاح پر، غم کی یلغار ہے

باریابی کو سلمان لے جائیں تو، گِر کے گھٹنوں کے بَل

رو کے کہنا؛ تمہارے سوا کیا کوئی اور غمخوار ہے

Thursday, 14 July 2022

اے خدائے زمین و زماں زندگی آخری ساعتوں میں ٹھکانے لگے

 اے خدائے زمین و زماں زندگی، آخری ساعتوں میں ٹھکانے لگے

اب یہ نوحے کی آواز موقوف ہو، اور فرشتہ کوئی گیت گانے لگے

ماجرے میں سلیماں کے اجلال پر، مفلسی مرحبا کہہ کے اٹھے مگر

حسنِ یوسف کا قصہ سناتے ہوئے، میری بد صورتی مسکرانے لگے

تجھ گلی سے گزرتا ہوا کارواں، جانتا ہو کہ یاں خواب ممنوع ہے

اور سواری پہ بیٹھی ہوئی آنکھ پر، موت پڑنے لگے، نیند آنے لگے

Saturday, 5 March 2022

کبھی پیالے میں جھانکتی ہے کبھی صحیفے کھنگالتی ہے

 کبھی پیالے میں جھانکتی ہے، کبھی صحیفے کھنگالتی ہے

یہیں سرائے میں ایک بُڑھیا، سعید فالیں نکالتی ہے

غلام گردش کا یہ تعفّن، جناب چربی کی مشعلوں سے

اذانِ مغرب سے جُھٹ پٹے تک یہی نحوست اجالتی ہے

کسی نے پتّھر کا ہل بنا کر فلک پہ اپنی نگاہ ڈالی

درخت نذریں گزارتے ہیں، فَضا ستارے اچھالتی ہے

Friday, 5 November 2021

یار خورشید چراغوں سے کہاں رد ہو گا

 یار خورشید چراغوں سے کہاں رد ہو گا

چپ رہو، حلق سے ہذیان برآمد ہو گا

اب یہ پتھر کہ جسے لوگ خدا مانتے ہیں

گوتمِ ہند کا اک دور میں برگد ہو گا

ایک نقطے سے یہ تعمیر، چلو مان لیا

اس کرشمے کا مگر کوئی تو مقصد ہو گا

Wednesday, 18 August 2021

ایک سجدے سے کوئی صحرا مکرم ہو گیا

عارفانہ کلام منقبت سلام


 ہست میں پھیلا اجالا یک بہ یک کم ہو گیا

آج کیا تاریخ گزری، کیا محرّم ہو گیا؟

شاعری منبر پہ پہنچی اور کہا؛ کرب و بلا

درہم و برہم ہوئی صف، اور ماتم ہو گیا

مر گئے اے سوز خوانو مرثیہ پڑھ کر چراغ

فرش سے اٹھتا اندھیرا عرش میں ضم ہو گیا

Tuesday, 22 June 2021

خشک روٹی توڑنی ہے سرد پانی چاہیے

 خشک روٹی توڑنی ہے، سرد پانی چاہیے

کیا کسی گِرجے کی کُنڈی کھٹکھٹانی چاہیے

اے سماعت اس فضا میں آج بھی موجود ہے

ہاں نوائے نغمۂ کُن تجھ کو آنی چاہیے

کاہنا! ہم سے روایت کا مکمل متن سن

بطن میں جلتی ہوئی شمع‌ معانی چاہیے

Tuesday, 27 April 2021

پیارے قدیم گاؤں پرانا رواج ہے

 پیارے، قدیم گاؤں، پرانا رواج ہے

سکے اٹھا، کپاس کے بدلے اناج ہے

گستاخ! دیکھ، شاہ کے آثار کا جلوس

پاپوش ہے، عصا ہے، پیالہ ہے، تاج ہے

پیشہ مِرا چراغ بنانا تھا اے حضور

پر اب کے سال تیز ہواؤں کا راج ہے

Thursday, 22 April 2021

چاندی کی تھالیوں میں دراوڑ اٹھائے ہیں

 چاندی کی تھالیوں میں دراوڑ اٹھائے ہیں

شاہ سفید فام، تِری کھیر لائے ہیں

اے کوڑھیو! ظہورِ مسیحا قریب ہے

سُوکھے ہوئے درخت پہ انجیر آئے ہیں

پھُوٹی ہے نُطقِ روزِ ازل سے یہ نغمگی

یا ہم قریبِ شامِ ابد گُنگنائے ہیں

Wednesday, 21 April 2021

یہ کتاب دل اٹھا لا سن ذرا اشلوک یار

 یہ کتابِ دل اُٹھا لا، سُن ذرا اشلوک یار

روشنی کرنے لگا ہوں غار میں، مت روک یار

شمع یہ اردو غزل کی کل جلائیں گے جگر

آج وارث کی سُنا دے وہ کہانی لوک یار

کیا خسِ یوسف کی خُوشبو اور کو آتی نہیں

کوچوانا! کھینچ راسیں، روک گاڑی روک یار

آباد بستیوں سے نئے بیج لائیں گے

 آباد بستیوں سے نئے بیج لائیں گے

ماٹی! تِرے درخت پرندے لگائیں گے

پیارے! میں شمعدار ہوں، تُو ہے ظروف ساز

دونوں ہی بادشاہ سے تنخواہ پائیں گے

روکو، بحکمِ شامِ ابد یہ ازل کا رتھ

ہم آخرالزمان بھی ہمراہ جائیں گے

میں دراوڑ سندھ کا تو آریائی دیوتا

 میں دراوڑ سندھ کا، تُو آریائی دیوتا

کب ہُوا تاریخ میں انساں کا بھائی دیوتا

بادلوں کی گھن گرج کے خوف نے بنوا دئیے

مشتری، مریخ، سورج ابتدائی دیوتا

پسلیوں سے کھینچ کے دستِ ازل نے ایک شب

خُلد خانے میں تِری دیوی بنائی دیوتا

Friday, 30 October 2020

سنا ہے کیچڑ کے سوکھنے پر حیات چولا بدل رہی تھی

 سنا ہے، کیچڑ کے سوکھنے پر حیات چولا بدل رہی تھی

شجر سے نیچے اتر کے خلقت، نحیف قدموں پہ چل رہی تھی

وسیع رقبے کا بے نہایت، خطیر ملبہ سمٹ رہا تھا

ضعیف تارے کی دھونکنی سے، مہیب ظلمت ابل رہی تھی

طواف کرتی ہوا کا رونا، مطاف میں غل مچا رہا تھا

حرم کے پھاٹک سے بین کرتی، کوئی سواری نکل رہی تھی