عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تنویر پر طمانچے، پھولوں پہ تازیانہ
عفت مآب کنبہ، عالی نسب گھرانہ
تسبیح میں ستارے، آفاق کا مصلّی
تطہیر کی قناتیں، رحمت کا شامیانہ
آیات کا تسلسل، اسرار پر تفکّر
تمجید کا ترنّم، توحید کا ترانہ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تنویر پر طمانچے، پھولوں پہ تازیانہ
عفت مآب کنبہ، عالی نسب گھرانہ
تسبیح میں ستارے، آفاق کا مصلّی
تطہیر کی قناتیں، رحمت کا شامیانہ
آیات کا تسلسل، اسرار پر تفکّر
تمجید کا ترنّم، توحید کا ترانہ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
فارسی کے کھجوروں بھرے باغ کی، خاک ماتھے پہ ملتا شگُن کے لیے
میں بھی بِکتا ہوا جا بہ جا ایک دن، جا پہنچتا مدینے میں اُنؐ کے لیے
استعاروں کی رنگین برسات میں، ان کے در سے نگینوں کی خیرات لی
اے زمانے! یہ انؐ کی عطا ہے عطا، یہ جواہر کہاں دٙیکھ سُن کے لیے
سبز ڈفلی پہ پڑتی ہوئی تھاپ نے، خیر مقدم کیا میرے سُلطانؐ کا
لحن گونجا فرشتوں کی آواز کا، تار چھیڑا گیا ایک دُھن کے لیے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
حمدِ الہ کی گونج ہے، اعلانِ نعت ہے
دنیا خدا کے فضل سے ایوانِ نعت ہے
مولا، عجم کے گُنگ بیاباں میں جا بہ جا
مِدحت کے اِصفہان ہیں، ملتانِ نعت ہے
روشن ہے بابِ شہرِ تمدّن پہ اب چراغ
حدِّ ادب، کہ گوشۂ بُستانِ نعت ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
میں نے عمرے پہ جاتے ہووں سے کہا ایک دربار
حاضری ہو تو کہنا کہ؛ مرتا ہوا، کوئی بیمار ہے
شاہزادیؑ کی اُجڑی ہوئی قبر پر، کہہ کے میرا سلام
عرض کرنا کہ؛ بابا کے مدّاح پر، غم کی یلغار ہے
باریابی کو سلمان لے جائیں تو، گِر کے گھٹنوں کے بَل
رو کے کہنا؛ تمہارے سوا کیا کوئی اور غمخوار ہے
اے خدائے زمین و زماں زندگی، آخری ساعتوں میں ٹھکانے لگے
اب یہ نوحے کی آواز موقوف ہو، اور فرشتہ کوئی گیت گانے لگے
ماجرے میں سلیماں کے اجلال پر، مفلسی مرحبا کہہ کے اٹھے مگر
حسنِ یوسف کا قصہ سناتے ہوئے، میری بد صورتی مسکرانے لگے
تجھ گلی سے گزرتا ہوا کارواں، جانتا ہو کہ یاں خواب ممنوع ہے
اور سواری پہ بیٹھی ہوئی آنکھ پر، موت پڑنے لگے، نیند آنے لگے
کبھی پیالے میں جھانکتی ہے، کبھی صحیفے کھنگالتی ہے
یہیں سرائے میں ایک بُڑھیا، سعید فالیں نکالتی ہے
غلام گردش کا یہ تعفّن، جناب چربی کی مشعلوں سے
اذانِ مغرب سے جُھٹ پٹے تک یہی نحوست اجالتی ہے
کسی نے پتّھر کا ہل بنا کر فلک پہ اپنی نگاہ ڈالی
درخت نذریں گزارتے ہیں، فَضا ستارے اچھالتی ہے
یار خورشید چراغوں سے کہاں رد ہو گا
چپ رہو، حلق سے ہذیان برآمد ہو گا
اب یہ پتھر کہ جسے لوگ خدا مانتے ہیں
گوتمِ ہند کا اک دور میں برگد ہو گا
ایک نقطے سے یہ تعمیر، چلو مان لیا
اس کرشمے کا مگر کوئی تو مقصد ہو گا
عارفانہ کلام منقبت سلام
ہست میں پھیلا اجالا یک بہ یک کم ہو گیا
آج کیا تاریخ گزری، کیا محرّم ہو گیا؟
شاعری منبر پہ پہنچی اور کہا؛ کرب و بلا
درہم و برہم ہوئی صف، اور ماتم ہو گیا
مر گئے اے سوز خوانو مرثیہ پڑھ کر چراغ
فرش سے اٹھتا اندھیرا عرش میں ضم ہو گیا
خشک روٹی توڑنی ہے، سرد پانی چاہیے
کیا کسی گِرجے کی کُنڈی کھٹکھٹانی چاہیے
اے سماعت اس فضا میں آج بھی موجود ہے
ہاں نوائے نغمۂ کُن تجھ کو آنی چاہیے
کاہنا! ہم سے روایت کا مکمل متن سن
بطن میں جلتی ہوئی شمع معانی چاہیے
پیارے، قدیم گاؤں، پرانا رواج ہے
سکے اٹھا، کپاس کے بدلے اناج ہے
گستاخ! دیکھ، شاہ کے آثار کا جلوس
پاپوش ہے، عصا ہے، پیالہ ہے، تاج ہے
پیشہ مِرا چراغ بنانا تھا اے حضور
پر اب کے سال تیز ہواؤں کا راج ہے
چاندی کی تھالیوں میں دراوڑ اٹھائے ہیں
شاہ سفید فام، تِری کھیر لائے ہیں
اے کوڑھیو! ظہورِ مسیحا قریب ہے
سُوکھے ہوئے درخت پہ انجیر آئے ہیں
پھُوٹی ہے نُطقِ روزِ ازل سے یہ نغمگی
یا ہم قریبِ شامِ ابد گُنگنائے ہیں
یہ کتابِ دل اُٹھا لا، سُن ذرا اشلوک یار
روشنی کرنے لگا ہوں غار میں، مت روک یار
شمع یہ اردو غزل کی کل جلائیں گے جگر
آج وارث کی سُنا دے وہ کہانی لوک یار
کیا خسِ یوسف کی خُوشبو اور کو آتی نہیں
کوچوانا! کھینچ راسیں، روک گاڑی روک یار
آباد بستیوں سے نئے بیج لائیں گے
ماٹی! تِرے درخت پرندے لگائیں گے
پیارے! میں شمعدار ہوں، تُو ہے ظروف ساز
دونوں ہی بادشاہ سے تنخواہ پائیں گے
روکو، بحکمِ شامِ ابد یہ ازل کا رتھ
ہم آخرالزمان بھی ہمراہ جائیں گے
میں دراوڑ سندھ کا، تُو آریائی دیوتا
کب ہُوا تاریخ میں انساں کا بھائی دیوتا
بادلوں کی گھن گرج کے خوف نے بنوا دئیے
مشتری، مریخ، سورج ابتدائی دیوتا
پسلیوں سے کھینچ کے دستِ ازل نے ایک شب
خُلد خانے میں تِری دیوی بنائی دیوتا
سنا ہے، کیچڑ کے سوکھنے پر حیات چولا بدل رہی تھی
شجر سے نیچے اتر کے خلقت، نحیف قدموں پہ چل رہی تھی
وسیع رقبے کا بے نہایت، خطیر ملبہ سمٹ رہا تھا
ضعیف تارے کی دھونکنی سے، مہیب ظلمت ابل رہی تھی
طواف کرتی ہوا کا رونا، مطاف میں غل مچا رہا تھا
حرم کے پھاٹک سے بین کرتی، کوئی سواری نکل رہی تھی