Thursday, 22 April 2021

چاندی کی تھالیوں میں دراوڑ اٹھائے ہیں

 چاندی کی تھالیوں میں دراوڑ اٹھائے ہیں

شاہ سفید فام، تِری کھیر لائے ہیں

اے کوڑھیو! ظہورِ مسیحا قریب ہے

سُوکھے ہوئے درخت پہ انجیر آئے ہیں

پھُوٹی ہے نُطقِ روزِ ازل سے یہ نغمگی

یا ہم قریبِ شامِ ابد گُنگنائے ہیں

مٹی پہ پھُول کاڑھنے والے نے پیشتر

افلاک پر چراغ سے تارے جلائے ہیں

پانی مسافرانِ خدا کو نصیب ہو

خاک اُڑ رہی ہے، دُھوپ سے منہ تمتمائے ہیں

یہ آج کس غریب کے ماتم کی شام ہے

تابوت اُٹھ رہا ہے، پھریروں کے سائے ہیں


احمد جہانگیر

No comments:

Post a Comment