Showing posts with label میکش ناگپوری. Show all posts
Showing posts with label میکش ناگپوری. Show all posts

Wednesday, 30 September 2020

میرا دل چاک ہوا چاک گریباں کی طرح

 میرا دل چاک ہوا چاکِ گریباں کی طرح

اب گلستاں نظر آتا ہے بیاباں کی طرح

میرے سینے میں منور ہوئے یادوں کے چراغ

بزمِ خُوباں کی طرح، شہرِ نگاراں کی طرح

کوئی مونس کوئی ہمدم کوئی ساتھی نہ ملا

میں پریشاں ہی رہا زلفِ پریشاں کی طرح

Friday, 28 August 2020

زندگی نقص زندگی تو نہیں

زندگی نقصِ زندگی تو نہیں
بندگی میں کوئی کمی تو نہیں
آپ کی دوستی سے ڈرتا ہوں
آپ سے کوئی دشمنی تو نہیں
بے اصولی، اصول ہو جائے
آپ پر ایسی بے خودی تو نہیں

پتھر دل انسان بہت ہیں

پتھر دل انسان بہت ہیں
دانا کم، نادان بہت ہیں
جن کو سمجھتے ہیں ہم مشکل
کام وہی آسان بہت ہیں
کس کو خبر کب پورے ہونگے
سینے میں ارمان بہت ہیں

وہ ماتم کر رہے ہیں زندگی کا

بھرم کھلنے نہ پائے بندگی کا
وہ ماتم کر رہے ہیں زندگی کا
تعجب ہے خلوصِ دوستاں پر
نہیں غم دشمنوں کی دشمنی کا
بھڑک اٹھتی ہے دل میں آتشِ غم
خیال آتا ہے جب ان کی گلی کا

Thursday, 11 June 2020

درد کی انتہا نہیں معلوم

درد کی انتہا نہیں معلوم
حشر کیونکر اٹھا نہیں معلوم
کون ہے آشنا نہیں معلوم
کون دے گا دغا نہیں معلوم
وہ تو رخصت ہوئے گلے مل کر
کب ٹلے گی بلا نہیں معلوم

مرا دیوانگی پر اس قدر مغرور ہو جانا

مِرا دیوانگی پر اس قدر مغرور ہو جانا
کہ رفتہ رفتہ حد آگہی سے دور ہو جانا
پتہ دیتا ہے گمراہیِ رہگیرِ محبت کا
بچھڑنا اور بچھڑ کر قافلے سے دور ہو جانا
کہیں دنیائے الفت کو تہ و بالا نہ کر ڈالے
غرورِ حسن کے آئین کا دستور ہو جانا

Sunday, 22 October 2017

میری جان لینے والے ترا دم نکل نہ جائے

میری جان لینے والے تِرا دم نکل نہ جائے
میرا عشق تو جواں ہے تِرا حسن ڈھل نہ جائے
مِرے حال پر کرم کر مِری زندگی کے داتا
تِرا نام لیتے لیتے مِرا دم نکل نہ جائے
نہیں خوف بجلیوں کا مجھے ڈر جو ہے تو یہ ہے
سرِ بزم بے ارادہ مِرا دل مچل نہ جائے

ساغر نہیں شراب نہیں یا گھٹا نہیں

ساغر نہیں، شراب نہیں، یا گھٹا نہیں
ان کی سیاہ زلف کے سائے میں کیا نہیں
ہمدم نہیں، عزیز نہیں، آشنا نہیں
تیرے سوا کوئی بھی مِرا آسرا نہیں
تاکید کر رہے ہیں وہ اپنی نگاہ سے
یہ ان کا خاص رنگ ہے حسنِ ادا نہیں

حیات کھینچ کے لے آئی ہے کہاں مجھ کو

حیات کھینچ کے لے آئی ہے کہاں مجھ کو
سنا رہا ہے وہ میری ہی داستاں مجھ کو
توجہ دی نہ کبھی اس کی بات پر میں نے
بنانا چاہا کئی بار راز داں مجھ کو
کسی کی شکل کسی کو نظر نہیں آتی
تمام شہر لگے ہے دھواں دھواں مجھ کو

Wednesday, 18 October 2017

بقدر ظرف محبت کا کاروبار چلے

بقدرِ ظرف محبت کا کاروبار چلے
مزہ تو جب ہے کہ ہر لمحہ ذکرِ یار چلے
تری نگاہ کے جب اہلِ دل پہ وار چلے
خزاں نصیب چمن جانبِ بہار چلے
اتر نہ جائے کہیں تیرے حسن کی رنگت
کہ تیری بزم سے اب تیرے جاں نثار چلے

شہر سے دور نیا شہر بسایا جائے

شہر سے دور نیا شہر بسایا جائے
ہوش والوں کو بھی مدھوش بنایا جائے
ایک ہی گھونٹ پلاتے ہو یہ کیا کرتے ہو
لطف تو جب ہے کہ جی بھر کے پلایا جائے
دور کرنے کے لیے تیرگیِ بزمِ حیات
اپنے سینے کا ہر اک داغ جلایا جائے

اب درد محبت مری رگ رگ میں رواں ہے

اب دردِ محبت مِری رگ رگ میں رواں ہے
صرف ایک جگہ ہو تو بتاؤں کہ یہاں ہے
اِک روز رہا تھا تِرے جلوؤں کی فضا میں
آنکھوں میں ابھی تک وہی رنگین سماں ہے
یاد آیا ہے اک وعدہ فراموشِ محبت
اب قلب کی دھڑکن پہ بھی آمد کا گماں ہے

Monday, 10 April 2017

کم سے کم دیر و حرم کا فاصلہ ہوتا نہیں

کم سے کم دیر و حرم کا فاصلہ ہوتا نہیں
اب کوئی مشکل سے بھی مشکل کشا ہوتا نہیں
آہ اپنا کام کر جائے تو دنیا جل اٹھے
کون کہتا ہے غریبوں کا خدا ہوتا نہیں
اب کہاں سے لائے کوئی لالہ و گل کا لہو
زخمِ دل شبنم کے قطروں سے ہرا ہوتا نہیں

انصاف کے ماتھے پہ شکن دیکھ لیا ہے

انصاف کے ماتھے پہ شکن دیکھ لیا ہے
ہم نے اثرِ دار و رسن دیکھ لیا ہے
غنچوں کا لڑکپن ہو کہ پھولوں کی جوانی
ہر ایک نے ماحولِ چمن دیکھ لیا ہے
میں نے تجھے ہر موڑ پہ اک خاص نظر سے
کچھ اور ہی عالم میں مگن دیکھ لیا ہے

زندگی کی سخت زنجیروں میں جکڑا دیکھ کر

زندگی کی سخت زنجیروں میں جکڑا دیکھ کر
آج تم بھی ہنس رہے ہو مجھ کو تنہا دیکھ کر
اب تو وہ بھی مجھ سے کترا کر گزر جانے لگے
میرے ماحولِ پریشانی کا نقشا دیکھ کر
حوصلہ کس میں تھا جو دیتا برابر کا جواب
صبر کرنا ہی پڑا ان کا رویّا دیکھ کر

Monday, 2 May 2016

نہیں معلوم مسیحا مجھے کیا دیتا ہے

نہیں معلوم مسیحا مجھے کیا دیتا ہے 
زہر دیتا ہے کہ کم بخت دوا دیتا ہے 
مشکلیں جھیل لے طوفان و حوادث سے نہ ڈر 
درد انسان کو انسان بنا دیتا ہے
آتشِ عشق بھڑک اٹھتی ہے دل میں میرے 
جب کوئی دامنِ الفت کی ہوا دیتا ہے 

خاطرِ مجروح لیتا ہے مزا تاثیر کا

خاطرِ مجروح لیتا ہے مزا تاثیر کا 
زخم بھرتا ہی نہیں انکی نظر کے تیر کا 
آب و تابِ آئینہ کم ہو گئی تو کیا ہوا 
رفتہ رفتہ رنگ اڑ جاتا ہے ہر تصویر کا
بیخودی میں بھی کیا ضبطِ خودی کا اہتمام 
یوں تو اکساتا رہا جذبہ مجھے تقصیر کا 

مالی کے عشق نے نہ گلستاں کے پیار نے

مالی کے عشق نے نہ گلستاں کے پیار نے 
دھوکا دیا ہے مجھ کو ادائے بہار نے 
دیکھا جو ان کو قلب پہ قابو نہیں رہا 
مجبور کر دیا دلِ بے اختیار نے
ساقی تِری شراب سے کچھ واسطہ نہیں 
بے خود بنا دیا مجھے صہبائے یار نے