Showing posts with label اجمل سراج. Show all posts
Showing posts with label اجمل سراج. Show all posts

Saturday, 15 April 2023

خدا کی بزم جہاں پر ہے یہ عنایت خاص

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


خدا کی بزمِ جہاں پر ہے یہ عنایتِ خاص

کہ دے کے آپؐ کو بھیجا گیا ہدایتِ خاص

خدا اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں

نگاہِ شوق میں آیت یہی ہے آیتِ خاص

بجز زیارتِ روئے رسولﷺ جنت سے

غرض ہی خاص ہمیں ہے کوئی نہ غایتِ خاص

Wednesday, 4 March 2020

ہر نئی شام سہانی تو نہیں ہوتی ہے

ہر نئی شام سہانی تو نہیں ہوتی ہے
اور ہر عمر جوانی تو نہیں ہوتی ہے
تم نے احسان کیا تھا سو جتایا تم نے
جو محبت ہو جتانی تو نہیں ہوتی ہے
دوستو! سچ کہو کب دل کو قرار آئے گا
ہر گھڑی آس بندھانی تو نہیں ہوتی ہے

کسی کی قید سے آزاد ہو کے رہ گئے ہیں

کسی کی قید سے آزاد ہو کے رہ گئے ہیں
تباہ ہو گئے برباد ہو کے رہ گئے ہیں
اب اور کیا ہو تمنائے وصل کا انجام
دل و دماغ تِری یاد ہو کے رہ گئے ہیں
کہیں تو قصۂ احوال مختصر یہ ہے
ہم اپنے عشق کی روداد ہو کے رہ گئے ہیں

Sunday, 3 January 2016

یہ خطہ آراستہ یہ شہر جہاں تاب

یہ خطۂ آراستہ، یہ شہرِ جہاں تاب
آ جائے گا ایک روز یہ ساحل بھی تہہِ آب
تصویرِ عمل، ذوقِ سفر، شوقِ فنا دیکھ
اک موج کہ ساحل کی طلب میں ہوئی سیماب
شاید یہ کوئی ریزۂ دل ہے کہ سرِ چشم
مانندِ مہ وہ مہر چمکتا ہے تہِ آب

ہم اپنے آپ میں رہتے ہیں دم میں دم جیسے

ہم اپنے آپ میں رہتے ہیں دم میں دم جیسے 
ہمارے ساتھ ہوں دو چار بھی جو ہم جیسے   
کسے دماغ جنوں کی مزاج پرسی کا 
سنے گا کون گزرتی ہے شامِ غم جیسے   
بھلا ہُوا کہ تِرا نقش پا نظر آیا 
خرد کو راستہ سمجھے ہوئے تھے ہم جیسے

دیوار یاد آ گئی در یاد آ گیا

دیوار یاد آ گئی، در یاد آ گیا
دو گام ہی چلے تھے کہ گھر یاد آ گیا
کچھ کہنا چاہتے تھے کہ خاموش ہو گئے
دستار یاد آ گئی، سر یاد آ گیا
دنیا کی بے رخی کا گلہ کر رہے تھے لوگ
ہم کو تِرا تپاک مگر یاد آ گیا

اور تو خیر کیا رہ گیا

اور تو خیر کیا رہ گیا
ہاں مگر اک خلا رہ گیا
غم سبھی دل سے رخصت ہوئے
درد بے انتہا رہ گیا
زخم سب مندمل ہوگئے
اک دریچہ کھلا رہ گیا

بجھ گیا رات وہ ستارا بھی

بجھ گیا رات وہ ستارا بھی 
حال اچھا نہیں ہمارا بھی 
یہ جو ہم کھوئے کھوئے رہتے ہیں 
اس میں کچھ دخل ہے تمہارا بھی
ڈوبنا ذات کے سمندر میں
ہے یہ طوفان بھی کنارا بھی

Sunday, 23 November 2014

وہ خوش انداز و خوش اطوار کہیں ملتے ہیں

وہ خوش انداز و خوش اطوار کہیں ملتے ہیں
زندگی! تیرے پرستار کہیں ملتے ہیں
جیسے اک موڑ پہ ملتے ہیں کہیں شام و سحر
اس طرح بھی دل و دلدار کہیں ملتے ہیں
جو سماعت کو کریں قلب و نظر سے آمیز
اس کہانی میں وہ کردار کہیں ملتے ہیں

Wednesday, 7 May 2014

گھوم پھر کر اسی کوچے کی طرف آئیں گے

گھوم پھر کر اسی کوچے کی طرف آئیں گے
دل سے نکلے بھی تو ہم لوگ کہاں جائیں گے
کبھی فرصت سے ملو تو تمہیں تفصیل کے ساتھ
امتیازِ ہوس و عشق بھی سمجھائیں گے
ہم کو معلوم تھا یہ وقت بھی آ جائے گا
ہاں مگر یہ نہیں سوچا تھا کہ پچھتائیں گے

ہمارے حال پہ وہ شادماں نظر آیا

ہمارے حال پہ وہ شادماں نظر آیا
ہمیں بھی اس سے زیادہ کہاں نظر آیا
رہی سہی وہ تب و تاب پیرہن بھی گئی
کہ آئینے کے مقابل دھواں نظر آیا
میں جی رہا تھا شب و روز کے تسلسل میں
وہ ماہتاب مجھے ناگہاں نظر آیا

میں وہ درخت ہوں کھاتا ہے جو بھی پھل میرے

میں وہ درخت ہوں کھاتا ہے جو بھی پھل میرے
ضرور مجھ سے یہ کہتا ہے ساتھ چل میرے
یہ کائنات تصرف میں تھی رہے جب تک
نظر بلند مری،۔۔ فیصلے اٹل میرے
مجھے نہ دیکھ، میری بات سن، کہ مجھ سے ہیں
کہیں کہیں متصادم بھی کچھ عمل میرے

کسی کے ہجر میں جینا محال ہو گیا ہے

کسی کے ہجر میں جینا محال ہو گیا ہے
کسے بتائیں ہمارا جو حال ہو گیا ہے
سحر جو آئی ہے شب کے تمام ہونے پر
تو اس میں کون سا ایسا کمال ہو گیا ہے
کوئی بھی چیز سلامت نہیں، مگر یہ دل
شکستگی میں جو اپنی مثال ہو گیا ہے

سو طرح کے غم اور ترے ہجر کا غم بھی

سو طرح کے غم اور ترے ہجر کا غم بھی
کیا زندگی کرنے کے لئے آئے ہیں ہم بھی
ہاں اس کا تقاضا تو فقظ ایک قدم تھا
افسوس بڑھا پائے نہ ہم ایک قدم بھی
اک رنجِ تعلق ہے کہ جتنا ہے بہت ہے
اک درد محبت جو زیادہ بھی ہے کم بھی

طویل بھی ہے فقط صبر آزما ہی نہیں

طویل بھی ہے فقط صبر آزما ہی نہیں
یہ رات جس میں ستاروں کا کچھ پتا ہی نہیں
نگاہِ دل کو جو رنگِ ثبات سے بھر دے
ابھی وہ پھول کسی شاخ پر کھلا ہی نہیں
جو دیکھتا ہے، کسی کو نظر نہیں آتا
جو جانتا ہے، اُسے کوئی جانتا ہی نہیں