Showing posts with label فرحت علی. Show all posts
Showing posts with label فرحت علی. Show all posts

Friday, 20 August 2021

نہ سارے عیب ہیں عیب اور ہنر ہنر بھی نہیں

 نہ سارے عیب ہیں عیب اور ہنر ہنر بھی نہیں

کچھ احتیاط تو کیجے پر اس قدر بھی نہیں

تمہارے ہجر میں باندھا ہے وہ سماں ہم نے

کہ آنکھ ہم سے ملاتا ہے نوحہ گر بھی نہیں

نہیں ذرا بھی تو اس نے نہیں ملایا رُخ

میں اس کو دیکھ رہا تھا یہ جان کر بھی نہیں

Saturday, 14 August 2021

آپ کو اجلا دکھے کالا دکھے

 آپ کو اُجلا دِکھے، کالا دِکھے

سچ تو سچ ہے چاہے وہ جیسا دکھے

زُلف جاناں، دیدۂ نم، دردِ دل

ان سے باہر آئیں تو دنیا دکھے

آنکھ کے اندھے کو پھر بھی عقل ہے

عقل کے اندھے کو سب الٹا دکھے

زندگی دوڑتی ہے سڑکوں پر

 زندگی دوڑتی ہے سڑکوں پر

اور پھر موت بھی ہے سڑکوں پر

دن دہاڑے پڑا ہے اک زخمی

کیا عجب تیرگی ہے سڑکوں پر

لوگ بس بے دلی سے چلتے ہیں

یعنی بے چارگی ہے سڑکوں پر

Friday, 13 August 2021

تو جہاں میں چار دن مہمان ہے

 تُو جہاں میں چار دن مہمان ہے

اس کے آگے اور ہی سامان ہے

آدمی اک خاک کا پُتلا ہے بس

جسم میں رنگت ہے جب تک جان ہے

کالا، گورا، اونچا‌، نیچا جو بھی ہو

آدمی وہ ہے کہ جو انسان ہے

Monday, 12 July 2021

باز دل یاد سے ان کی نہ ذرا بھر آیا

 باز دل یاد سے ان کی نہ ذرا بھر آیا

وہ نہ آیا تو خیال ان کا برابر آیا

ساقیا درد بھرا ہی رہا پیمانۂ چشم

سو تِری بات پہ چھلکا جو ذرا بھر آیا

آہ وہ شدتِ غم ہے کہ مِری آنکھوں سے

بوند دو بوند نہیں، ایک سمندر آیا