نہ سارے عیب ہیں عیب اور ہنر ہنر بھی نہیں
کچھ احتیاط تو کیجے پر اس قدر بھی نہیں
تمہارے ہجر میں باندھا ہے وہ سماں ہم نے
کہ آنکھ ہم سے ملاتا ہے نوحہ گر بھی نہیں
نہیں ذرا بھی تو اس نے نہیں ملایا رُخ
میں اس کو دیکھ رہا تھا یہ جان کر بھی نہیں
نہ سارے عیب ہیں عیب اور ہنر ہنر بھی نہیں
کچھ احتیاط تو کیجے پر اس قدر بھی نہیں
تمہارے ہجر میں باندھا ہے وہ سماں ہم نے
کہ آنکھ ہم سے ملاتا ہے نوحہ گر بھی نہیں
نہیں ذرا بھی تو اس نے نہیں ملایا رُخ
میں اس کو دیکھ رہا تھا یہ جان کر بھی نہیں
آپ کو اُجلا دِکھے، کالا دِکھے
سچ تو سچ ہے چاہے وہ جیسا دکھے
زُلف جاناں، دیدۂ نم، دردِ دل
ان سے باہر آئیں تو دنیا دکھے
آنکھ کے اندھے کو پھر بھی عقل ہے
عقل کے اندھے کو سب الٹا دکھے
زندگی دوڑتی ہے سڑکوں پر
اور پھر موت بھی ہے سڑکوں پر
دن دہاڑے پڑا ہے اک زخمی
کیا عجب تیرگی ہے سڑکوں پر
لوگ بس بے دلی سے چلتے ہیں
یعنی بے چارگی ہے سڑکوں پر
تُو جہاں میں چار دن مہمان ہے
اس کے آگے اور ہی سامان ہے
آدمی اک خاک کا پُتلا ہے بس
جسم میں رنگت ہے جب تک جان ہے
کالا، گورا، اونچا، نیچا جو بھی ہو
آدمی وہ ہے کہ جو انسان ہے
باز دل یاد سے ان کی نہ ذرا بھر آیا
وہ نہ آیا تو خیال ان کا برابر آیا
ساقیا درد بھرا ہی رہا پیمانۂ چشم
سو تِری بات پہ چھلکا جو ذرا بھر آیا
آہ وہ شدتِ غم ہے کہ مِری آنکھوں سے
بوند دو بوند نہیں، ایک سمندر آیا