Saturday, 14 August 2021

زندگی دوڑتی ہے سڑکوں پر

 زندگی دوڑتی ہے سڑکوں پر

اور پھر موت بھی ہے سڑکوں پر

دن دہاڑے پڑا ہے اک زخمی

کیا عجب تیرگی ہے سڑکوں پر

لوگ بس بے دلی سے چلتے ہیں

یعنی بے چارگی ہے سڑکوں پر

عمر گھر میں تو اس کی کم گزری

اور زیادہ کٹی ہے سڑکوں پر

مفلسی کیسی کیسی شکلوں میں

تو بھی اکثر ملی ہے سڑکوں پر

چلتے ہم تم بھی ہیں مگر فرحت

ہوڑ رفتار کی ہے سڑکوں پر


فرحت علی

No comments:

Post a Comment