کچھ دُکھی انسانیت کی رُوح کو آرام دیں
ہم زمانے بھر میں جا کر امن کا پیغام دیں
اپنی دُھن میں مست رہنے کی اگر ڈالیں روش
ایک دُوجے پر نہ جھُوٹے ہم کبھی الزام دیں
ظُلمتوں میں ٹھوکریں کھاتی پھرے گی کب تلک
زندگی کے ہاتھ میں اب روشنی کا جام دیں
کچھ دُکھی انسانیت کی رُوح کو آرام دیں
ہم زمانے بھر میں جا کر امن کا پیغام دیں
اپنی دُھن میں مست رہنے کی اگر ڈالیں روش
ایک دُوجے پر نہ جھُوٹے ہم کبھی الزام دیں
ظُلمتوں میں ٹھوکریں کھاتی پھرے گی کب تلک
زندگی کے ہاتھ میں اب روشنی کا جام دیں
میں لبِ دریا کھڑا ہوں تشنگی بُجھتی نہیں
آج تک پیاسا کھڑا ہوں تشنگی بجھتی نہیں
پڑتی ہے پیاسے بدن پر مست ساون کی پھوار
رُوح تک بھیگا کھڑا ہوں تشنگی بجھتی نہیں
میں کوئی مجبور و بے بس تو نہیں ہوں اے فرات
پیاس سے رُوٹھا کھڑا ہوں تشنگی بجھتی نہیں
یوں گردشِ حالات ہے کچھ اور طرح کی
دنیا کی تو ہر بات ہے کچھ اور طرح کی
برسی ہے گلستان میں اب خون کی بارش
اس بار کی برسات ہے کچھ اور طرح کی
تھوڑا سا بھرم رکھنا مِرے عشق کا یا رب
یہ منزلِ آفات ہے کچھ اور طرح کی
مسکرا کے اس قیامت سے گزر
ننگے پاؤں دشتِ الفت سے گز
دوسروں کا بھی تجھے احساس ہو
خود کسی لمبی مصیبت سے گزر
زندگی میں ہیں بڑی باریکیاں
لاکھ بل کھا کے مہارت سے گزر