Showing posts with label عباس خلش. Show all posts
Showing posts with label عباس خلش. Show all posts

Monday, 7 July 2025

کچھ دکھی انسانیت کی روح کو آرام دیں

 کچھ دُکھی انسانیت کی رُوح کو آرام دیں

ہم زمانے بھر میں جا کر امن کا پیغام دیں

اپنی دُھن میں مست رہنے کی اگر ڈالیں روش

ایک دُوجے پر نہ جھُوٹے ہم کبھی الزام دیں

ظُلمتوں میں ٹھوکریں کھاتی پھرے گی کب تلک

زندگی کے ہاتھ میں اب روشنی کا جام دیں

Thursday, 5 June 2025

لب دریا کھڑا ہوں تشنگی بجھتی نہیں

 میں لبِ دریا کھڑا ہوں تشنگی بُجھتی نہیں

آج تک پیاسا کھڑا ہوں تشنگی بجھتی نہیں

پڑتی ہے پیاسے بدن پر مست ساون کی پھوار

رُوح تک بھیگا کھڑا ہوں تشنگی بجھتی نہیں

میں کوئی مجبور و بے بس تو نہیں ہوں اے فرات

پیاس سے رُوٹھا کھڑا ہوں تشنگی بجھتی نہیں

Wednesday, 4 June 2025

یوں گردش حالات ہے کچھ اور طرح کی

یوں گردشِ حالات ہے کچھ اور طرح کی

دنیا کی تو ہر بات ہے کچھ اور طرح کی

برسی ہے گلستان میں اب خون کی بارش

اس بار کی برسات ہے کچھ اور طرح کی

تھوڑا سا بھرم رکھنا مِرے عشق کا یا رب

یہ منزلِ آفات ہے کچھ اور طرح کی

Thursday, 25 August 2022

مسکرا کے اس قیامت سے گزر

مسکرا کے اس قیامت سے گزر

ننگے پاؤں دشتِ الفت سے گز

دوسروں کا بھی تجھے احساس ہو

خود کسی لمبی مصیبت سے گزر

زندگی میں ہیں بڑی باریکیاں

لاکھ بل کھا کے مہارت سے گزر