Showing posts with label تحریم چودھری. Show all posts
Showing posts with label تحریم چودھری. Show all posts

Thursday, 1 September 2022

یوں دل میں بسا ہے میرے سودائے محمد

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


یوں دل میں بسا ہے میرے سودائے محمدﷺ

ہر لمحہ خیالوں میں میرے چھائے محمدﷺ

ہم جیسے گناہگاروں کی بخشیش کے لیے ہی

کونین کی محفل میں میرے آئے محمدﷺ

خیرات محبت میں درِ نورﷺ پہ بیٹھے

ہاتھوں میں لیے کاسہ ہیں شیدائے محمدﷺ

Saturday, 2 April 2022

ندامتوں سے چھپے تھے تری ولادت پر

 احترام عورت


ندامتوں سے چھپے تھے تِری ولادت پر

تھے اشکبار ہمیشہ جو اپنی قسمت پر

سمجھ رہے تھے مصیبت جو پالنا تجھ کو

پسند کرتے نہیں تھے جو دیکھنا تجھ کو

وجود بیٹی کا جب بوجھ سمجھا جاتا تھا

کہ جس کو زندہ ہی قبروں میں ڈالا جاتا تھا

Friday, 1 April 2022

دنیا کے سارے رنگ ان بہکی ہواؤں کے سنگ

 ملن


دنیا کے سارے رنگ

ان بہکی ہواؤں کے سنگ

چھوئیں یہ سب جب مجھے

تو جاگتی دل میں امنگ

اٹھتی ہے دل میں ترنگ

Thursday, 31 March 2022

جینے کی ہو بات تو بولو ورنہ چھوڑو جانے دو

 جینے کی ہو بات تو بولو ورنہ، چھوڑو جانے دو 

مرنے کی باتوں پہ بھی کیا مرنا، چھوڑو جانے دو 

اک مدت کے بعد اچانک مل کر باتیں کیا کرتے 

اتنا کچھ کہنے کو تھا کہ سوچا، چھوڑو جانے دو 

آنکھوں ہی آنکھوں میں کتنے منظر بنتے تھے اور پھر 

منظر کش آنکھوں سے بہتا جھرنا، چھوڑو جانے دو 

Wednesday, 30 March 2022

میں تو عورت ہوں مجھے اپنا بھرم رکھنا ہے

 میں تو عورت ہوں، مجھے اپنا بھرم رکھنا ہے

دل کو ہر حال میں ماٸل بہ کرم رکھنا ہے

میری فطرت میں تو پہلے سے وفا ہے شامل

کیوں زمانے کو مِرا سر بھی یہ خم رکھنا ہے

دل میں دریا ہے مِرے اور لبوں پر شبنم

حکم کیوں ہے کہ ان آنکھوں کو بھی نم رکھنا یے

Tuesday, 29 March 2022

مجھے بس یہ سمجھنا ہے یہ دنگے کیسے ہوتے ہیں

 دنگے


مجھے بس یہ سمجھنا ہے 

کوئی دنگوں کا بھی کیا فلسفہ ہے 

یہ دنگے کیسے ہوتے ہیں

انہیں کیا کوئی بھڑکاتا ہے، یا خود سے بھڑکتے ہیں

یہ کیسے لوگ ایک دن بھیڑ کی صورت میں ڈھلتے ہیں

Monday, 28 March 2022

بعد نمود کچھ نہ رہا باغباں کے پاس

 بعد نمود کچھ نہ رہا باغباں کے پاس 

بیٹھا ہے کس خیال میں گم گلستاں کے پاس 

وہ لالہ فام شبنمی گُل رُو وہ شوخ شوخ 

یاد بہار لوٹ کے آئی خزاں کے پاس 

بستی اجاڑ ہو گئی بس اس خیال سے 

دل ہی نہ ہو گا دل کے میرے پاسبان کے پاس

Friday, 26 November 2021

میرا سرمایہ ہے جاں میری وفا تم رکھ لو

 میرا سرمایہ ہے جاں میری وفا تم رکھ لو

مجھ کو بیمار ہی رہنے دو دوا تم رکھ لو

قید رہنے دو سدا حبس کے موسم میں مجھے

سرخ موسم کے دریچوں کی ہوا تم رکھ لو

اوڑھ کر بیٹھی ہوں میں کب سے دکھوں کی چادر

میری خوشیوں کی یہ رنگین قبا تم رکھ لو