عارفانہ کلام نعتیہ کلام
یوں دل میں بسا ہے میرے سودائے محمدﷺ
ہر لمحہ خیالوں میں میرے چھائے محمدﷺ
ہم جیسے گناہگاروں کی بخشیش کے لیے ہی
کونین کی محفل میں میرے آئے محمدﷺ
خیرات محبت میں درِ نورﷺ پہ بیٹھے
ہاتھوں میں لیے کاسہ ہیں شیدائے محمدﷺ
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
یوں دل میں بسا ہے میرے سودائے محمدﷺ
ہر لمحہ خیالوں میں میرے چھائے محمدﷺ
ہم جیسے گناہگاروں کی بخشیش کے لیے ہی
کونین کی محفل میں میرے آئے محمدﷺ
خیرات محبت میں درِ نورﷺ پہ بیٹھے
ہاتھوں میں لیے کاسہ ہیں شیدائے محمدﷺ
احترام عورت
ندامتوں سے چھپے تھے تِری ولادت پر
تھے اشکبار ہمیشہ جو اپنی قسمت پر
سمجھ رہے تھے مصیبت جو پالنا تجھ کو
پسند کرتے نہیں تھے جو دیکھنا تجھ کو
وجود بیٹی کا جب بوجھ سمجھا جاتا تھا
کہ جس کو زندہ ہی قبروں میں ڈالا جاتا تھا
ملن
دنیا کے سارے رنگ
ان بہکی ہواؤں کے سنگ
چھوئیں یہ سب جب مجھے
تو جاگتی دل میں امنگ
اٹھتی ہے دل میں ترنگ
جینے کی ہو بات تو بولو ورنہ، چھوڑو جانے دو
مرنے کی باتوں پہ بھی کیا مرنا، چھوڑو جانے دو
اک مدت کے بعد اچانک مل کر باتیں کیا کرتے
اتنا کچھ کہنے کو تھا کہ سوچا، چھوڑو جانے دو
آنکھوں ہی آنکھوں میں کتنے منظر بنتے تھے اور پھر
منظر کش آنکھوں سے بہتا جھرنا، چھوڑو جانے دو
میں تو عورت ہوں، مجھے اپنا بھرم رکھنا ہے
دل کو ہر حال میں ماٸل بہ کرم رکھنا ہے
میری فطرت میں تو پہلے سے وفا ہے شامل
کیوں زمانے کو مِرا سر بھی یہ خم رکھنا ہے
دل میں دریا ہے مِرے اور لبوں پر شبنم
حکم کیوں ہے کہ ان آنکھوں کو بھی نم رکھنا یے
دنگے
مجھے بس یہ سمجھنا ہے
کوئی دنگوں کا بھی کیا فلسفہ ہے
یہ دنگے کیسے ہوتے ہیں
انہیں کیا کوئی بھڑکاتا ہے، یا خود سے بھڑکتے ہیں
یہ کیسے لوگ ایک دن بھیڑ کی صورت میں ڈھلتے ہیں
بعد نمود کچھ نہ رہا باغباں کے پاس
بیٹھا ہے کس خیال میں گم گلستاں کے پاس
وہ لالہ فام شبنمی گُل رُو وہ شوخ شوخ
یاد بہار لوٹ کے آئی خزاں کے پاس
بستی اجاڑ ہو گئی بس اس خیال سے
دل ہی نہ ہو گا دل کے میرے پاسبان کے پاس
میرا سرمایہ ہے جاں میری وفا تم رکھ لو
مجھ کو بیمار ہی رہنے دو دوا تم رکھ لو
قید رہنے دو سدا حبس کے موسم میں مجھے
سرخ موسم کے دریچوں کی ہوا تم رکھ لو
اوڑھ کر بیٹھی ہوں میں کب سے دکھوں کی چادر
میری خوشیوں کی یہ رنگین قبا تم رکھ لو