مُحبت اس لیے چھُپائی گئی
کہ پگڑی درمیان لائی گئی
دو خُوشیاں اُجاڑ دی گئیں
ایک عزت ہے بچائی گئی
محبت رزق تھی میرے لیے
عُمر بھر کی کمائی گئی
ذرا سی اُجرت کے عِوض
کسی پر قیامت ڈھائی گئی
شوقِ دِید میں میری طرح
کئی لوگوں کی بِینائی گئی
خواب آنکھوں میں راکھ ہوئے
دل کی نگری ہے جلائی گئی
رفوگری بھی رائیگاں ٹھہری
بخیے اُدھڑے بھرپائی گئی
زہر نما ہے زندگی ساکن
زبردستی ہے پِلائی گئی
کلیم ساکن
No comments:
Post a Comment