تازہ ہوا کا جھونکا بنایا گیا مجھے
دُنیائے بے نمو میں پھرایا گیا مجھے
میں آنکھ سے گِرا تو زمیں کے صدف میں تھا
بہرِ جمالِ عرش اُٹھایا گیا مجھے
سازش میں کون کون تھا، مجھ کو نہیں ہے عِلم
مُصحف میں اِک ہی نام بتایا گیا مجھے
بخشی گئی بہشت مجھے کِس حِساب میں
دوزخ میں کس بنا پہ جلایا گیا مجھے؟
چیخا کبھی جو دہر کے ظُلم و سِتم پہ میں
قسمت کی لوری دے کے سُلایا گیا مجھے
بیدادِ دہر نے جو کیا سنگدل ہمیں
تو کربلا دِکھا کے رُلایا گیا مجھے
تسخیرِ کائنات کا تھا مرحلہ اسد
یونہی نہیں یہ عِلم سِکھایا گیا مجھے
وارث اسد
No comments:
Post a Comment