کہاں اے پردہ نشیں خُود کو چھُپایا ہوا ہے
تیرا دیوانہ تِرے شہر میں آیا ہوا ہے
تیری تصویر نے تسخیر کیا ہے دل کو
تیرا ہی عکس مِرے ذہن پہ چھایا ہوا ہے
دل ہے سادہ کہ سمجھ بیٹھا ہے اس کو غمخوار
وہ جو اپنے ہی کسی کام سے آیا ہوا ہے
اپنی راہوں کو بھی ظاہر نہیں ہونے دیتے
ہم نے منزل کو بھی دُنیا سے چھُپایا ہوا ہے
عشق کی آگ پہ کاغذ کی چلا کر کشتی
ایک دیوانے نے دُنیا کو ہلایا ہوا ہے
ان پہ یہ انفس و آفاق بھی قُربان حیات
مرکزِ عشق جنہیں ہم نے بنایا ہوا ہے
وکیل احمد حیات
No comments:
Post a Comment