ایک اک مسجد، سارے مندر، ہر گُردوارا ڈُوب گیا
بجلی گھر کا باندھ بنا تو گاؤں ہمارا ڈوب گیا
بستی والوں سے کہتا تھا گھبرانا مت میں جو ہوں
ناؤ بنانے والا مانجھی وہ بے چارا ڈوب گیا
جانے کیسے اتنا پانی چھلکا چاند کٹورے سے
جس میں ہر اک جگمگ جگمگ ٹِم ٹِم تارا ڈوب گیا
ایک پریمی جوڑا جس دریا میں ڈُوبا تھا کل رات
آج سمندر میں جا کر وہ دریا سارا ڈوب گیا
اپنی قسمت کو کوسیں یا کشتی کو روئیں پرویز
ہم ساحل پر پہنچے ہی تھے اور کِنارا ڈوب گیا
پرویز مظفر
No comments:
Post a Comment