بقا ہو یا ہو فنا کچھ نہیں ہے رہنے کا
بجُز خُدا، بخُدا کچھ نہیں ہے رہنے کا
نشاطِ وصل ہو یا ہجر کی قیامت ہو
صمُوم ہو کہ صبا کچھ نہیں ہے رہنے کا
کھڑاؤں پہنی، لِیا اِذن اور چل نکلے
ہمیں پتہ ہے دِلا کچھ نہیں ہے رہنے کا
حقیقتوں کی چکاچوند اور گُمان کی دُھن
طلسمِ ہوشربا کچھ نہیں ہے رہنے کا
وہ سرسراتا ہوا ریشمِیں مہِین لباس
یہ چِیتھڑوں سی قبا کچھ نہیں ہے رہنے کا
مجھے یہ حق نہ مِلا، یہ مِلا تو وہ نہ مِلا
عبث نہ دل کو جلا کچھ نہیں ہے رہنے کا
ہراس و یاس میں سہمے ہوئے یہ کِزب و ریا
وفورِ صِدق و صفا کچھ نہیں ہے رہنے کا
واحد سراج میر
No comments:
Post a Comment