سر اُٹھا کے مت چلیے آج کے زمانے میں
جان جاتی رہتی ہے حوصلہ دِکھانے میں
کس سے حق طلب کیجے بیوفا زمانے میں
ہونٹ سُوکھ جاتے ہیں حال دل سُنانے میں
ہاتھ کی لکِیروں سے فیصلے نہیں ہوتے
عزم کا بھی حصہ ہے زندگی بنانے میں
کھو گئے کہاں میرے اعتبار کے رشتے
کس نے بو دئیے کانٹے پھُول سے گھرانے میں
منزلوں کی باتیں تو خواب جیسی باتیں ہیں
عُمر بِیت جاتی ہے راستہ بنانے میں
اے بشر! مِری آنکھیں جگنوؤں کی عادی تھیں
کس نے بجلیاں رکھ دیں میرے آشیانے میں
چرن سنگھ بشر
No comments:
Post a Comment