کہیں جاتا نہیں یہ دردِ دل ٹھہرا بھی رہتا ہے
پرانے زخم سے رشتہ مِرا گہرا بھی رہتا ہے
وہ سب کچھ جان لیتا ہے مِرا چہرا ہی پڑھ پڑھ کر
بنا رہنے دو پہرا کوئی گر پہرا بھی رہتا ہے
بہت ساری سونامی ہیں مِرے دل کی طرح اس میں
بہت دِکھتا ہے پانی جھیل کا ٹھہرا بھی رہتا ہے
ترازو سے نہ تولو تم ہماری پیاس کا مطلب
کبھی دریا بھی رہتا ہے کبھی صحرا بھی رہتا ہے
ہے کچھ جادو بھری کرسی سیاست کی کہ جو بیٹھا
کبھی اندھا بھی رہتا ہے، کبھی بہرا بھی رہتا ہے
پیوش اوستھی
No comments:
Post a Comment