اردو کا جنازہ ہے ذرا دُھوم سے نِکلے
فکر اب نالہ و شیون کی نہ دمساز کی ہے
نہ مسیحا کی ضرورت ہے نہ غمّاز کی ہے
پر کترنے پہ نہ خُوش ہو میرے صیّاد بہت
بازوئے فِکر میں، طاقت ابھی پرواز کی ہے
نسسِ باریکئ نُدرت کی حلاوت کی قسم
میری غزلوں میں جھلک اک نئے انداز کی ہے
لفظ و معنی کے دمکتے ہوئے موتی مجھ میں
نہ مُغنّی کی ضرورت نہ کسی ساز کی ہے
دل سے ہے قوسِ قزح رنگِ تغزّل پہ نثار
ہر طرف دُھوم جو شیرینئ انداز کی ہے
گُلشنِ ہند میری جائے وِلادت ہے سنو
بات یہ میرے لیے فخر کی ہے ناز کی ہے
پرورش میری بڑے پیار سے کی تھی تم نے
دِلکشی مجھ میں اسی پیار کے انداز کی ہے
مجھ میں باقی ہیں وہ شاہانہ تمدّن کے نشان
یاد اب جس کی بہت فخر کی اعزاز کی ہے
میں ہوں اردو کہ ہوں میں معدنِ آدابِ سخن
کیوں نِیّت مجھ پہ بُری تفرقہ پرداز کی ہے
کچھ سیاست کے پرستار میرے پیچھے ہیں
کیا کہوں کیسے کہوں بات بہت راز کی ہے
مجھ کو فِرقوں میں نہ تقسم و مُقیّد کر لو
یہ سیاست تو بس اِک چُنگلِ شہباز کی ہے
میں نہ ہُندو، نہ مُسلمان، نہ عیسائی ہوں
نہ کسی ملک سے بسنے کو یہاں آئی ہوں
میں اِسی ملک کی بیٹی ہوں ذرا یاد کرو
خود بھی آباد رہو، مجھ کو بھی آباد کرو
میں ہوں غالب کی زبان گر تو ہوں مُلا کا دھن
میر ہے گرچہ میری رُوح، تو چکبست بدن
میرا مذہب ہے مزاجوں کو منوّر کرنا
دل میں اخلاق و محبت کے سمندر بھرنا
مذہب و قوم کے چنگل میں پھنساؤ نہ مجھے
خار تخریب کے ہوّے سے ڈراؤ نہ مجھے
ہر مذہب، فِرقہ و ہر قوم کی منہ بولی ہوں
سب زبانوں کی سہیلی ہوں، میں ہمجولی ہوں
مجھ کو تفریق کی زنجیر نہ پہناؤ حضور
چھوڑ کر مذہبی تکرار اِدھر آؤ حضور
اپنے اجداد کی تاریخ اُٹھا کر دیکھو
اپنے ماضی سے ذرا ہاتھ مِلا کر دیکھو
اپنے خُوں میں مجھے تحلیل کیا تھا تم نے
اور شہزادئ تخئیل کہا تھا تم نے
میں پلی پوسی ہوں اس ملک کے گہوارے میں
پانچ سو سال سے چرچے ہیں میرے بارے میں
مجھ میں محفوظ تھا اس ملک کا قانونی نصاب
سب ہی باشندے تھے اس ملک کے، میرے احباب
میں نے سِکھلائے ہیں آدابِ محبت سب کو
اور بتاتی رہی اسرارِ اخُوّت سب کو
راج کرتی تھی دِلوں پر کہ ہوں میں شِیریں زبان
ذہن و دل ہر کس و ناکس کے ہی ہیں میرے مکان
آؤ پھر مِل کے دِیے اُنس و محبت کے جلائیں
پھر وہی پرچمِ آزادی، رفَاقت سے اُٹھائیں
پھر اُخوّت کے دِیے سب کے دوارے دھر دیں
آؤ کہ دل میں پھر اخلاق کے موتی بھر دیں
پھر چلے ملک کے آنگن میں وہ ہی پُروائی
پھر رہیں پیار و محبت سے میرے شیدائی
میں نہ ہُندو، نہ مُسلمان، نہ عیسائی ہوں
نہ کسی ملک سے بسنے کو یہاں آئی ہوں
میں اردو ہوں، میں اردو ہوں
احسن لکھنوی
No comments:
Post a Comment