آنسو
انہیں اشکوں سے تو اقوام و امم زندہ ہیں
ہیں ادب زندہ اگر نامہ غم زندہ ہیں
سوز جب تک ہے زبانوں میں قلم زندہ ہیں
طفلِ نو رو کے بتاتا ہے کہ ہم زندہ ہیں
سانس لینے نہیں پاتے کہ گُزر جاتے ہیں
جن کو رونا نہیں آتا وہ مر جاتے ہیں
کون کہتا ہے کہ رونا ہے شکستِ ہمت
دلِ بُزدل کو نہیں دیدۂ تر سے نسبت
اشک بہتے ہیں تو بڑھ جاتی ہے دل کی طاقت
گریۂ غم نے مجاہد کو عطا کی قوت
شب کو محراب میں روتے تھے جو شبنم کی طرح
دن کو میداں میں نکلے وہی ضیغم کی طرح
پیام اعظمی
No comments:
Post a Comment